انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 137 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 137

۱۳۷ سورة الاعراف تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث کو قرآن کریم کی شکل میں نازل فرمایا۔اس لئے اس سے دُعا کرو کہ وہ ہمیں یہ تو فیق عطا فرمائے کہ ہم اُن حدود کے اندر رہ کر اور اُن حقوق کو ادا کر کے جو اُس نے مقرر کئے ہیں اپنی ربوبیت اور نشوو نما کے سامان پیدا کریں اور یہ دُعا گڑ گڑا کر بھی کرو اور خفیہ بھی، اجتماعی طور پر بھی کرو اور انفرادی طور پر بھی اور یہ یا درکھو کہ جب تک اللہ تعالیٰ سے دعا کر کے اُس کے فضل کو جذب نہیں کیا جاتا، انسان حقوق کے دائرہ میں نہیں رہتا، وہ اُن کو پامال کرتا ہے۔جو شخص حقوق کو پامال کرتا ہے اُس کے متعلق فرمایا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ اللہ تعالیٰ اعتداء کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔وہ ان سے پیار اور محبت نہیں کرتا۔اعتداء کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا انسان کو حاصل نہیں ہوتی اس سے اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے وَلا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا دین حق کے نزول کے بعد ، حقوق کی تعیین کے بعد، حقوق کی وضاحت کے بعد اور اللہ تعالیٰ کے اس اعلان کے بعد کہ حقوق کی ادائیگی کے لئے مادی اور غیر مادی سامان پیدا کئے گئے ہیں اور ان کی تقسیم ان اصول پر ہونی چاہیے جن کے نتیجہ میں اس دنیا میں اصلاح کے حالات پیدا ہوتے ہیں اور فساد کے حالات مٹ جاتے ہیں، امن کے حالات پیدا ہوتے ہیں اور خوف کے حالات دُور کر دیئے جاتے ہیں۔ان حالات کے پیدا ہونے کے بعد لا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ کی رو سے اس زمین میں جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ایک نیا روپ لے کر دنیا کے سامنے آئی ہے۔اس میں فساد کے حالات پیدا نہ کرو۔پھر تاکید فرمایا کہ وَادْعُوهُ کہ خدا تعالیٰ سے عاجزانہ دعائیں کر کے اس کی برکتوں اور رحمتوں کو حاصل کرو اور اس کی نصرت اور مدد پاؤ تا کہ تم خوفا اس خوف سے نجات پاؤ جو حق تلفی کے بعد پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے وطمعا اور اس رَجَاء اور امید کے ساتھ دُعا ئیں کرو کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت تمہیں حقوق کی ادائیگی کے دائرہ میں رکھ کر خدا تعالیٰ کے پیار کو پانے والا بنادے۔فرمایا اگر تم محسن بنو۔اگر تم ہمارے احکام کو تمام بیان کردہ شرائط کے ساتھ بجالاؤ تو یاد رکھو کہ تم خدا تعالیٰ کی رحمت کو اپنے قریب پاؤ گے۔پس آج کا میرا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اعتداء کو پسند نہیں کرتا انسان اعتداء کے بعد (جس کے معنے میں ابھی بتاتا ہوں) خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی زندگی میں کامیاب ہو سکتا ہے۔