انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 372 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 372

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث خلیفة ۳۷۲ سورة البقرة کے مطابق یعنی لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا میں جس قسم کے مکلف ہونے کا ذکر ہے اس کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کو اپنے دائرہ استعداد کی انتہا تک پہنچا دے اور دس ہزار نہ پہنچا ئیں تو جو کام دس ہزار سے رہ گیا ہے، کسی اور کی طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ پورا کر سکے۔یہ بالکل ناممکن ہے خدا تعالیٰ نے اس کو پورا کرنے کی طاقت ہی نہیں دی پس اگر یہ کی رہ گئی تو ایک لاکھ آدمی اپنے مقام کی انتہا کو نہیں پہنچ سکے گا کیونکہ دس ہزار نے کمزوری دکھا دی۔( خطبات ناصر جلد چہارم صفحه ۲۳ تا ۲۶) تمہاری وسعت کے مطابق تم پر بار ڈالا جائے گا اس میں کسی فلسفے کی ضرورت نہیں ہے۔شریعت میں اتنی لچک ضرور ہونی چاہیے کہ ہر فرد کی طاقت کے مطابق اس کی ہدایتیں بدلتی چلی جائیں۔قرآن کریم کے بہت سے احکام میں سے مثلاً روزہ کو لے لو۔ایک صحت مند بچہ ہے اور نظر آ رہا ہے کہ وہ پہلوان بننے والا ہے لیکن دس سال کی عمر میں خدا تعالیٰ نے اُسے فرمایا کہ روزہ نہیں رکھنا کیونکہ ابھی تم میں روزے کی طاقت پیدا نہیں ہوئی۔اب امریکہ میں جو نئے تجربے کئے گئے ہیں واللہ اعلم کب تک ان کو صحیح سمجھا جائے گا۔ان تجربات کی رُو سے اٹھارہ سال کی عمر تک انسان کھانے کے اعتبار سے بچہ متصور ہوتا ہے چنانچہ انہوں نے غذا کا ایک فارمولا بنایا ہے اور وہ یہ ہے کہ اٹھارہ سال کی عمر تک کا بچہ ( کھانے کے لحاظ سے وہ بچہ ہے ) جس وقت جس چیز کی جتنی مقدار میں خواہش کرے وہ اسے ملنی چاہیے۔تب اس کی (جسمانی) صحیح نشو نما ہو سکتی ہے اسی واسطے اٹھارہ سال کی عمر سے کم کے بچوں کو عادت ڈالنے کے لئے تو کچھ روزے رکھوانے چاہئیں لیکن ایک مہینہ کے لگا تار روزے نہیں رکھوانے چاہئیں کیونکہ رمضان کے لئے وہ عمر بلوغت نہیں ہے رمضان کا تعلق انسان کی روح سے بھی ہے مثلاً تنویر قلب ہوتی ہے۔رُوح میں روشنی اور بشاشت پیدا ہوتی ہے۔انسان پر اگر اللہ تعالیٰ کا فضل ہو جائے تو وہ روحانی طور پر ترقی کر کے کہیں سے کہیں جا پہنچتا ہے۔۔۔۔۔۔بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا يَطَافُ رَهَقًا کہ اے انسان! خواہ تیری صحت کیسی ہو! خواہ تیری عمر کتنی ہو! خواہ تیرا ماحول کیا ہو! تیری طاقت کے خلاف یا تیری طاقت سے بڑھ کر بوجھ تمہارے اوپر خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۵۰۵ تا ۵۰۷) نہیں ڈالا جائے گا۔