انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 316 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 316

٣١٦ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے مجاہدہ کیا اس رنگ میں کہ انہوں نے خواہشات نفسانی کو خدا تعالیٰ کی خاطر چھوڑا۔اس رنگ میں کہ انہوں نے اپنے پیدا کرنے والے کی خوشنودی کے حصول کے لئے گناہوں سے اجتناب کیا۔( هَاجَرُوا ) اور انہوں نے اپنے ماحول، اپنے املاک (اپنی جائدادوں ) اپنے کنبہ اور اپنے شہر اور اپنے علاقہ کو خدا تعالیٰ کی خاطر ترک کیا۔اور خدا تعالیٰ کی رضاء کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ کر کسی دوسری جگہ چلے گئے۔وَجَاهَدُوا اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی محبت کے حصول کے لئے نیکی کے راستوں پر شوق اور بشاشت کے ساتھ قدم مارا۔أُولَبِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللہ یہی وہ لوگ ہیں جو امید رکھ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت انہیں حاصل ہو جائے گی۔أولبِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھ سکتے ہیں۔یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت انہیں ضرور مل جائے گی۔پھر اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ جو شخص بدیوں کو ترک نہیں کرتا اور نیکیوں کو اختیار نہیں کرتا۔وہ یہ امید نہیں رکھ سکتا کہ اللہ تعالیٰ اس سے رحمت کے ساتھ سلوک کرے گا۔یہ امید کہ میرا رب میرے ساتھ رحمت کا سلوک کرے گا وہی رکھ سکتا ہے جو بدیوں کو ترک کرتا اور نیکی کی راہوں کو اختیار کرتا ہے۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۴۴۰،۴۳۹) آیت ۲۳۲ وَ اِذَا طَلَقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرْحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ صِرَارًا لِتَعْتَدُوا وَ مَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَد ظَلَمَ نَفْسَهُ ۖ وَلَا تَتَّخِذُوا أيتِ اللهِ هُزُوًا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنَ الْكِتَبِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُم بِهِ وَ اتَّقُوا اللهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (٢٣٢ وَلَا تَتَّخِذُوا أَيْتِ اللهِ هُزُوا خدا تعالیٰ کی جو آیات ہیں انہیں معمولی سمجھ کے محل تمسخر اور استہزا نہ بناؤ کیونکہ اس کے بغیر ان آیات کے سمجھنے کے بغیر تم خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل نہیں کر سکتے ، خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل کئے بغیر تم خدا تعالیٰ کا ذکر نہیں کر سکتے ، خدا تعالیٰ کا ذکر صحیح رنگ میں کئے بغیر تم حقیقی نجات اور کامیابی اور فلاح نہیں حاصل کر سکتے اپنی زندگی میں۔