انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 242 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 242

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۴۲ سورة البقرة ہوتے چلے جائیں تو پھر ہمیں آگے چلنا چاہیے اور مزید رفعتوں کو حاصل کرنا چاہیے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن کریم کے احکام اور اس شریعت کی برکت اور اس پر عمل پیرا ہونے کے نتیجہ میں تم اپنی ہدایت میں ترقی کرتے چلے جاؤ گے۔رمضان میں یہ دروازے زیادہ فراخی کے ساتھ تمہارے اوپر کھولے جائیں گے پھر تم میں سے جو زیادہ سمجھ دار اور فراست رکھتے ہیں اور ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے مانا کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتاب ہے کامل اور مکمل شریعت ہے اور ہم آنکھیں بند کر کے بھی اس پر عمل کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن اے خدا جب تو نے ہمیں عقل اور فراست اور فکر اور تدبر کا مادہ عطا کیا ہے تو ہماری ان قوتوں اور استعدادوں کو بھی تو تسکی دے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر بھی رمضان کے مہینہ میں بینات حکمتیں جو قرآن کریم کے احکام کی ہیں۔وہ بھی کھولتا ہے علم قرآن اس رنگ میں بھی عطا کیا جاتا ہے اور رمضان کے مہینہ میں خاص طور پر عطا کیا جاتا ہے۔پھر چونکہ یہ فرقان ہے ایسے شخص کو جو خلوص نیت کے ساتھ رمضان کی عبادات بجالاتا ہے اور اس کی عبادات مقبول ہو جاتی ہیں۔اللہ تعالی فرقان عطا کرتا ہے فرقان کا لفظ جب ہم انسان کے متعلق استعمال کرتے ہیں تو اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے ایک نور عطا کرتا ہے اور اس نور کے استعمال کی توفیق عطا کرتا ہے اور وہ نورا سے قرب الہی کی طرف لے جاتا ہے کیونکہ نور ہی نور کی طرف جا سکتا ہے۔اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ زمینوں اور آسمانوں کا نور اللہ ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کو رمضان کے مہینہ میں بہتر نور اور کثرت سے نور عطا کرتا ہے اور قرب کی راہیں اس پر کھولتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ اتنی برکتوں والا مہینہ ہے جو تمہاری روحانی اور جسمانی ترقیات کے سامان اپنے اندر رکھتا ہے اس لئے ہم تمہیں یہ کہتے ہیں کہ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُبُهُ جسے اللہ تعالی زندگی اور صحت میں رمضان دکھائے اس کا فرض ہے کہ وہ رمضان سے فائدہ اُٹھائے اس لئے جو شخص بھی رمضان میں زندہ ہو اور صحت مند ہو وہ رمضان کے روزے رکھے اور دیگر عبادات بجالائے کیونکہ رمضان کی عبادت محض یہ نہیں کہ انسان بھوکا ر ہے بھوکا رہنے سے خدا کو یا خدا کے بندوں کو کیا فائدہ، اگر یہ شخص اس بھوکا رہنے کی حکمت کو نہیں سمجھتا اور اس کے لوازم کو ادا نہیں کرتا۔