انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 186
۱۸۶ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ہزار ہا سال تک اس کی حفاظت کروائی۔جب آپ کی بعثت کا وقت قریب آیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اس کھوئے ہوئے خزانہ کو ڈھونڈیں چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی وحی کے ذریعہ انہوں نے اسے ڈھونڈ نکالا اور پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ حکم دیا کہ اس کی از سر نو تعمیر کرو کیونکہ جس کی یہ چیز ہے وہ مبعوث ہونے والا ہے۔پس اس دعویٰ کے بعد مسجد حرام یعنی خانہ کعبہ یا بیت اللہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماننے والوں کے سوا کسی اور کے پاس رہ ہی نہیں سکتا۔اس حقیقت کو جاننے کے بعد وہ مسلمان بڑا ہی ناشکرا ہوگا جو اس کی طرف اپنے وجہ کو نہیں کرتا یعنی اپنی توجہ کو اس طرف نہیں رکھتا اور اپنے اندر یہ احساس نہیں پیدا کرتا کہ ہماری ساری ترقیات کا راز ان مقاصد کے حصول کی کوشش میں ہے جو خانہ کعبہ کے تعلق میں بیان کئے گئے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ ان آیات میں فرماتا ہے کہ اے مسلمانو! خانہ کعبہ کی تعمیر کے جملہ مقاصد حاصل کرنے کی جدو جہد کرتے رہو تا کہ تم پر دشمن کا کسی طور پر بھی الزام نہ آئے نہ ظاہری طور پر کہ خانہ کعبہ تمہارے پاس نہیں اور نہ روحانی طور پر کہ دعویٰ تو کرتے ہو مگر تم اس کے مطابق اپنی زندگیاں نہیں گزارتے اس واسطے تمہارا یہ فرض ہے کہ فَوَلُوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَة تم ہمیشہ اپنی نیت اور مقصد یہ رکھو کہ خانہ کعبہ کے ساتھ جو برکات اللہ تعالیٰ نے رکھی ہیں یا خانہ کعبہ کے جو مقاصد اس نے بیان فرمائے ہیں۔ہم اُن مقاصد کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو ڈھالیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ کے اس عظیم اور نہایت پر جلال فعل کو دیکھیں کہ اس نے کس طرح ہزار ہا سال پہلے ایک منصوبہ بنایا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بابرکت ظہور کا۔جس سے آپ کی عظمت اور جلال بھی ظاہر ہوتا ہے۔انسانوں کو پتہ ہی نہیں تھا۔انبیاء علیہم السلام کو اسی نور کی صرف ایک جھلک دکھائی گئی تھی یعنی علم الہی میں اس نور کا ادھر بھی اور اُدھر بھی پر تو پڑ رہا تھا۔ایک روشنی تھی جو ماضی کو بھی منور کر رہی تھی۔ایک روشنی تھی جو مستقبل کو بھی روشن کر رہی تھی اور قیامت تک پھیلی ہوئی تھی۔باوجود اس کے کہ ایک لحاظ سے آپ اس مادی دنیا کے مادی بشر تھے مگر روحانی طور پر آپ کی عظمت اور جلال کا اظہار دیکھو۔فرمایا میرا وہ محبوب آرہا ہے جو انسانیت کا نچوڑ ہوگا۔وہ میرے قریب تر ہونے والا ہے اور عملاً قریب تر رہے گا۔کیونکہ روحانی طور پر آپ کی زندگی ماضی، حال اور مستقبل پر