انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 121
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۲۱ حیثیت کا حامل ہے کہ اس میں ان بیماریوں سے بچنے کی راہیں بتائی گئی ہیں۔سورة البقرة خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۸۵۰ تا ۸۶۵) اگر چہ ہر نبی کے ساتھ یہی معاملہ رہا ہے لیکن بڑا نمایاں ہوکر ہمارے محبوب آقامحمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت پر ہمیں یہ نظارہ دکھائی دیتا ہے کہ کچھ لوگ تو ایمان لائے سچا اور حقیقی ایمان اور اُنہوں نے اپنی زندگیاں اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دیں۔وہ ہر دم اور ہر آن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز پر لبیک کہتے رہے اور اسی میں اپنی عزت سمجھتے رہے اور اسی میں اپنی فلاح پاتے رہے اور اسی کے ذریعہ اُخروی زندگی میں اپنے لئے جنتوں کی تلاش کرتے رہے۔ایک گروہ تھا جو آپ کی صداقت کا منکر ہوا۔اس گروہ میں سے آہستہ آہستہ ایمان لا کر کئی لوگ جماعت مومنین میں شامل ہوئے یا پھر اپنے اپنے وقت پر اس جہان سے گوچ کر گئے اور اُن کا معاملہ اللہ تعالیٰ سے جا پڑا۔جس سلوک کے وہ مستحق تھے وہ اُن سے ہوا ہوگا لیکن چونکہ اُس زندگی سے ہمارا تعلق نہیں اس لئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں سے جو وعدہ کیا ہے اس کے مطابق اُن کو یقینا سزادی ہوگی۔ایک تیسرا گروہ جو بڑا نمایاں ہوکر ہمارے سامنے آتا ہے وہ منافقین کا گروہ ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں جس قسم کا خیا نہ نفاق پایا جاسکتا ہے اور جس کا ذکر خود قرآن کریم نے کیا ہے اُس کے متعلق یہ سمجھنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امت محمدیہ میں ایسا نفاق ظاہر نہیں ہوگا صحیح نہیں ہے۔اس بات کو عقل تسلیم نہیں کرتی۔قرآن کریم نے ایک جگہ پر یہ ہدایت کی ہے کہ منافقوں کی سال میں ( مَرَّةٌ أو مرتين ) ایک دو بار آزمائش کرتے رہنا چاہیے اور اُن کو ٹولتے رہنا چاہیے۔اس سے بھی بعض اصلاح کر لیتے ہیں اور بعض گند کے اس مقام پر جہاں کھڑے تھے وہاں کھڑے رہتے ہیں یا بعض اس گند میں ترقی کرتے ہیں بہر حال الہی سلسلوں کو چوکس اور بیدار رہ کر اپنی اجتماعی ، اخلاقی اور روحانی زندگی گزارنی چاہیے۔اِس وقت میں اس سلسلہ میں بعض آیات جن کا میں نے انتخاب کیا ہے پڑھوں گا اور ساتھ اُن کا ترجمہ کروں گا۔ویسے قرآن کریم نے بہت سے دیگر مقامات پر بھی منافقین کا ذکر کیا ہے لیکن اگر وہ آیات بھی میں پڑھنے لگوں تو یہ بہت لمبا مضمون بن جائے گا اس لئے میں نے چند آیات کو منتخب کیا