قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے — Page 81
قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے ( قرآن مجید کی 26 آیات پر اعتراضات کے جوابات) اعتراض آیت نمبر : (c)2 وَ إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَا أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلوة إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يُفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنَّ الْكَفِرِيْنَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوا مُّبِينًا ۱۰۲ ط ( سورة النساء، سورۃ نمبر 4 آیت نمبر 102) ترجمہ: اور جب تم زمین میں (جہاد کرتے ہوئے) سفر پر نکلو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم نماز قصر کر لیا کرو، اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے تمہیں آزمائش میں ڈالیں گے۔یقیناً کافر تمہارے کھلے کھلے دشمن ہیں۔وضاحت اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ جب وہ حالت جنگ اور میدان جنگ میں ہوں اور اس کے لئے وہ زمین میں مسافر کی حالت میں ہوں تو انکو اجازت دی گئی ہے کہ اپنی نماز قصر کر لیا کریں۔یعنی ظہر کی دو رکعت عصر کی دو رکعت اور عشاء کی دو رکعت پڑھ لیا کریں اور ایک اور موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے ایسی حالت میں صلوٰۃ الخوف ایک خاص کیفیت میں ادا کرنے کی اجازت دی ہے اور اسکا مقصد اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ تم نماز کی ادائیگی میں مستغرق ہو اور دشمن 81