قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے — Page 10
قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے ( قرآن مجید کی 26 آیات پر اعتراضات کے جوابات) انتہائی حیرت انگیز ہے اور کم علمی کا ثبوت ہے۔معترض کو علم ہونا چاہئے کہ لفظ کتاب ( كتب يَكْتُبُ كِتاباً ) سے ماخوذ ہے اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرۃ کی ابتداء میں ہی ہر قرآن پڑھنے والے کو یہ نوید سنادی ذالك الكتاب“ کہ یہ وہ کتاب ہے معترض کو چاہئے لفظ کتاب پر غور کرے اگر یہ کتاب تحریر شدہ سید نا محمد صلی یتیم کے عہد مبارک میں موجود نہ تھی تو اُس وقت منافقین اور مخالفین اسلام جو مدینہ میں ہی موجود تھے یہ سوال اُٹھاتے کہ جس کلام الہی کو کتاب کہا جا رہا ہے وہ ہے کہاں؟۔وہ کتابی شکل میں ہمیں نظر نہیں آتی۔اُن کے سکوت سے واضح ہے کہ اس وقت کے مروجہ طریق کے مطابق قرآن مجید تحریری شکل میں موجود تھا۔اور اس پر مستزاد یہ کہ اللہ نے اعلان فرمایا لَارَ يُبَ فِيه یہ جو کتاب ہے اس میں شک کی نہ کوئی گنجائش ہے اور نہ کوئی خدشہ اور نہ کوئی امکان۔اے قرآن پڑھنے والے پورے یقین اور اطمینان سے اسکو پڑھ اور اس کا مطالعہ کر۔ان سارے امکانی اعتراضات کا اللہ تعالیٰ نے ابتدائی دو الفاظ میں ازالہ فرما دیا ہے۔10