قندیلیں — Page 161
141 تھے اور میں ان دنوں یونیورسٹی میں ایم۔اے میں پڑھتی تھی اور وہاں سے مجھے لیکر اڈہ پر پہنچ جائیں گے اور ابا جان کا نوکر سامان لے کر سیدھا اڈہ پر پہنچ جائیگا۔دوسر دن عید تھی۔ریش اتنا تھا کہ ہم دونوں باپ بیٹی ضلع کھری کے پاس بہت دیر تک کسی رکشہ ٹیکسی کے انتظار میں کھڑے رہے۔شام ہونے کا بھی ڈر اور دھیر کے پہنچنے کا بھی فکر نہیں نے گھبرا کر کہا۔ابا جان آج تو کچھ نہیں ملے گا کیسے گھر پہنچیں گے۔اس پر بڑی ہی پیاری مسکرا ہٹ کے ساتھ فرمایا لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنا ابھی پوری طرح ابا جان نے کلمہ ادا بھی نہیں کیا تھا کہ ایک بالکل نئی کا ر ہمارے پاس آکر نہ کی ہم نے سمجھا کہ سگنل روکنے کے لئے ہو گیا ہے۔اس لئے یہ کار ٹھہر گئی ہے۔مگر کار میں سے ایک شخص نکلا۔بادب طریقہ سے سلام کیا اور کہا۔آپ نے کہاں جانا ہے گاڑی میں بیٹھیں۔ابا جان نے جواب دیا۔جانا تو اڈہ تک ہے۔رش کی وجہ سے کوئی رکشہ وغیرہ نہیں مل رہا۔وہ شخص مسکرا کر کہنے لگا۔اڈہ سے پھر گجرات ہی جانا ہے نا۔چودھری صاحب آپ نے اپنے شاگرد کو نہیں پہنچانا۔میں ہوں آپ کا شاگرد امریکہ گیا ہوا تھا۔حال ہی میں واپس آیا ہوں اور اب اس اعلیٰ عہدہ پر آپ کی دعاؤں اور نصیحتوں کے نتیجہ میں ہوں۔جب اس نے اپنا نام بتایا تو ابا جان کو سب یاد آ گیا۔کار چلاتے چلاتے اس نے کندھا آیا جان کے آگے کر دیا، اور کیا چودھری صاحب ایک دفعہ تھی کی تو دے دیں۔اس نے گجرات عید کے لئے جانا تھا ہم نے اڈہ سے نوکر کو بھی ساتھ لیا اور ہر وقت دھیر کے پہنچ گئے۔( ,1949, ر(مصباح - صفحه ۲۲ ۲۳ جون ۱۹۹۹ ) را