قندیلیں

by Other Authors

Page 11 of 194

قندیلیں — Page 11

نہیں اٹھے گا اور فرمایا۔آپ پلنگ پر بیٹھے جائیں۔مجھے یہاں نیچے آرام معلوم ہوتا ہے۔پہلے میں نے انکار کیا لیکن آپ نے فرمایا۔آپ بلا تکلف بیٹھ جائیں پھر میں بیٹھ گیا۔مجھے پیاس لگی ہوئی تھی۔میں نے گھڑوں کی طرف نظر اٹھائی۔وہاں کوئی برتن نہ تھا۔آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا کیا آپ کو پیاس لگی ہے میں پانی لاتا ہوں۔نیچے نہنانے سے جا کر گلاس لے آئے۔پھر فرمایا۔ذرا بھر لیے اور پھر نیچے گئے اور وہاں سے دو بوتلیں شربت کی لے آئے منی پور سے کسی نے بھیجی تھیں۔بہت لذیذ شربت تھا۔فرمایا۔ان بوتلوں کو رکھے ہوئے بہت دن ہو گئے۔کیونکہ ہم نے نیت کی تھی کہ پہلے کسی دوست کو پلا کر خود پیئیں گے۔آج مجھے یاد آ گیا۔چنانچہ آپ نے گلاس میں شربت بنا کر مجھے دیا۔میں نے کہا حضور اس میں سے تھوڑا سا آپ پی لیں تو پھر میں پیوں گا۔آپ نے ایک گھونٹ پی کر مجھے دے دیا اور میں نے پی لیا۔میں نے شربت کی تعریف کی۔آپ نے فرمایا کہ ایک بوتل آپ لے جائیں اور ایک باہر دوستوں کو پلا دیں۔آپ نے ان دو بوتلوں میں سے وہی ایک گھونٹ پیا ہوگا۔میں آپ کے حکم کے مطابق توتلیس لے کر چلا گیا۔ر اصحاب احمد جلد چهارم دروایات ظفر صفحه ۱۲۵-۱۲۶) نصیب اللہ اکبر مکرم شیخ محمد احمد صاحب مظہر تحریر فرماتے ہیں کہ گورداسپور کا مقام ہے۔ضروری کاموں کی انجام دہی کے بعد بہت رات گئے والد صاحب