قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 57
تدرت ثانیہ کا دور اوّل نورالدین میں مقطعات کے جواب میں لکھا اور اس کو لکھ کر میں خود بھی حیران ہو گیا۔“ ( مرقاۃ الیقین صفحہ 154-155) اس کتاب کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ حضرت مسیح موعود نے اس کا مسودہ سنا اور بعض جگہ مفید مشورے بھی دئے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب فرماتے ہیں: " حضرت مسیح موعود کے حکم سے جب حضرت مولوی نور الدین صاحب نے دھرم پال کی کتاب ”ترک اسلام کا جواب بنام ” نور الدین“ لکھا تو اس کا مسودہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عاجز راقم تھوڑا تھوڑا کر کے ہر روز بعد نماز مغرب سنایا کرتا تھا۔“ ( ذكر حبيب ص 167 ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فصل الخطاب اور تصدیق براہین احمدیہ کی طرح یہ کتاب بھی حضرت مسیح موعود کے ارشاد کی تعمیل میں لکھی گئی اس کتاب کی افادیت کا اندازہ اسی ایک امر سے بخوبی ہو سکتا ہے کہ دھرم پال جس نے ترک اسلام میں مذہب اسلام کو دنیا کے جملہ مذاہب سے ناقص اور نا قابل عمل قرار دیا تھا اس کتاب کی اشاعت کے بعد حلقہ بگوش اسلام ہوا۔اور اسلام کے خلاف اپنی جملہ تالیفات کو خود اپنے ہاتھوں سے تلف کیا۔حضرت خلیفہ اسیح اول نے اپنی مومنانہ فراست سے کام لیتے ہوئے ” نور الدین“ میں لکھا تھا۔’اب تمہارے تبدیلی مذہب کا باعث معلوم ہوا جب تم ایک حالت پر نہیں رہ سکتے تو تمہارے آریہ سماج دھرم پر بھی استقلال معلوم ہو گیا۔“ (نورالدین صفحه 126 بار دوم ) اس کی افادیت اور قوت مؤثرہ کو دیکھتے ہوئے تبلیغ اسلام کا جذبہ رکھنے والوں نے اسے بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ایک غیر احمدی رئیس ڈاکٹر غلام نبی صاحب زبدۃ الحکماء لا ہور نے تو اس کی ایک ہزار جلد عمدہ کاغذ پر طبع کرا کر مفت تقسیم کیں۔حضرت مولانا مولوی عبید اللہ صاحب بسمل اس کتاب کی اشاعت پر فاضل مصنف کو خراج تحسین ادا کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔(57)