قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 98 of 365

قسمت کے ثمار — Page 98

سوچے سمجھے عادتاً اپنا وقت صحیح مفید اور Productive کاموں میں لگانے کی بجائے اس قیمتی متاع کو جو ایک دفعہ ہاتھ سے نکل جانے کے بعد کبھی کسی قیمت پر واپس نہیں مل سکتی بلاوجہ ستی میں ہی ضائع کر دیتا ہے۔اس کی بجائے اگر ہم اپنا وقت سوچ سمجھ کر مفید اور ضروری کاموں میں خرچ کریں تو اس میں حیرت انگیز طور پر برکت پڑ جائے گی اور یہ کہنے کی نوبت بہت کم آئے گی کہ : کیا کیا جائے۔کام بہت ہے۔وقت ہی نہیں ملتا۔“ عام طور پر یہ مشکل ان لوگوں کو پیش آتی ہے جو اپنے وقت کے استعمال میں پوری طرح محتاط نہیں ہیں۔مثال کے طور پر ایک شخص صبح سویرے اٹھ کراپنے معمولات شروع کرتا ہے۔بستر پر کروٹیں بدلتے ہوئے وقت ضائع نہیں کرتا۔غسلخانہ میں بھی ضرورت سے زیادہ وقت نہیں لگاتا۔اسے اپنی اس اچھی عادت کی وجہ سے صرف یہی نہیں کہ نوافل، نماز ، تلاوت وغیرہ کے لئے بہت کافی وقت مل جائے گا بلکہ یہ امر اسے اچھی صحت کی نعمت سے بھی مالا مال کر دے گا۔اس کا ایک اور بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اسے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ گزارنے کے لئے بہت اچھا وقت مل جائے گا جس میں بہت سے خاندانی اور تربیتی مسائل خود بخود حل ہوتے چلے جائیں گے۔میاں بیوی کے تعلقات کی بہتری اور بچوں کی شخصیت میں نکھار اور عمدگی بھی آجائے گی۔اس کے برعکس اگر کوئی شخص صبح اٹھنے میں دیر کرتا ہے اور ستی کی وجہ سے بستر میں کروٹیں لیتا رہتا ہے وہ یہ احساس ہی نہیں کرتا کہ اس طرح وہ اپنی زندگی کے کتنے قیمتی لمحات ضائع کر رہا ہے۔وہ دیر سے اٹھنے کی وجہ سے نوافل نماز ، تلاوت بلکہ غسل اور وضو وغیرہ ضروری امور کو پورا وقت نہیں دے سکے گا بہت ممکن ہے کہ جلدی جلدی یہ سب کام کرنے کی وجہ سے وہ اپنے بیوی بچوں کو وہ توجہ اور پیار دینے کی بجائے گھبراہٹ اور جھنجلا ہٹ میں ان پر اپنا غصہ اتارنے کی کوشش کرے۔اس طرح پیارو محبت اور افہام وتفہیم کی بجائے باہم تعلقات میں سردمہری بلکہ ناراضگی وغیرہ راہ پالیس اور یہ ساری نحوست صرف اس وجہ سے ہوگی کہ وقت کا صحیح استعمال نہیں کیا گیا۔اگر خاتون خانہ بھی 98