قسمت کے ثمار — Page 68
ان کی درستی کے لئے کا تب تک دوبارہ پہنچانا۔اس سلسلہ میں تجربہ کار لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ بعض اوقات تصحیح کی بجائے لفظ کچھ کے کچھ بن جایا کرتے ہیں اور اس طرح تصحیح ایک دفعہ نہیں بلکہ کئی کئی دفعہ کروانے کی ضرورت پیش آجایا کرتی ہے پریس میں اگر صحیح طباعت نہ ہو رہی ہو تو اس کی نگرانی اور درستی بھی اپنی جگہ ایک بہت بڑا کام ہے۔( جبکہ پریس قادیان سے باہر ہو اور اس کی انتظامیہ کا تعاون بھی محل نظر ہو ) مضمون یا کتاب کی اشاعت کے بعد اس کی فرم شکنی اور سلائی یا جلد بندی بھی ایک مستقل درد سر ہوتی ہے کیونکہ یہاں پھر سے فرمہ شکنوں کے وعدے اور نخرے کام کی طوالت اور کوفت کو بہت زیادہ بڑھا دیتے ہیں۔فرمہ شکنی اور جلد بندی کے بعد ان کتب کی ترسیل واشاعت بھی تو ایک ادارہ کا کام ہے کسی ایک انسان کے بس کی بات نہیں۔حضور علیہم نے اپنی پر معرفت تصانیف میں عیسائیت اور دوسرے مذاہب کی اس پر زور طریق پر تردید فرمائی کہ حضور علیشا کے ایک نقاد کو بھی یہ اعتراف کرنا پڑا کہ گزشتہ تیرہ سوسال میں تائید اسلام میں براہین احمدیہ جیسی بے مثال کتاب کوئی نہیں لکھی گئی۔حضور عالی) کی صحت جو اکثر خراب رہتی تھی۔ایک عام آدمی کے لئے تو ان میں سے ہر روک اس کام کو نا ممکن بنانے کیلئے کافی ہوتی مگر خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت سے آپ نے ان سب مشکلات اور روکوں کے باوجود نوے (90) کے قریب تصنیفات شائع فرما ئیں۔ان تصنیفات میں سے بعض کے متعلق آپ نے انعامی پہلج فرمائے مگر بڑی بڑی رقموں کے انعام مقرر کرنے اور اسے اپنی صداقت کا معیار قرار دینے کے باوجود کسی مخالف کو یہ چیلنج قبول کرنے کی جرات و توفیق نہ ملی۔قرآنی پیشگوئیوں اور مخبر صادق آنحضرت سال اسلام کی بیان فرمودہ علامات کی صداقت ثابت کرنے والے امام موعود کی آمد پر تمام غیر مذاہب والوں بلکہ روایتی مسلمانوں نے بھی آپ کی مخالفت کا ایک طوفان کھڑا کر دیا۔اس وجہ سے آپ کو ان کے پھیلائے ہوئے غلط اعتراضات کے جواب دینے پڑے اور آپ کی بعض تصانیف میں مناظرہ کا ایک مؤثر ومنفر درنگ آ گیا۔تاہم آپ 68