قسمت کے ثمار — Page 215
یک راہ میں دستور العمل قرار دے گا۔ہفتم :۔یہ کہ تکبر اور نخوت کو بگلی چھوڑ دے گا اور فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اور حلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔ہشتم :۔یہ کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردی اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنی اولاد اور اپنے ہر یک عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔نہم : یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض اللہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خُدا دا د طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔دہم :۔یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض اللہ با قرار طاعت در معروف باندھ کر اس پر تا وقتِ مرگ قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہوگا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔(روحانی خزائن جلد 3 ازالہ اوہام ص 564) ان شرائط پر ایک نظر ڈالنے سے ہی یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ یہ ایک مسلمان کا مکمل لائحہ عمل ہے۔جس پر عمل کر کے وہ دونوں جہان میں سرخروئی اور کامیابی حاصل کر سکتا ہے اور یہ بھی کہ وصیت کے نظام میں کامیابی کی ان راہوں اور سعادت کے ان رستوں کی یاد دہانی ہی کروائی گئی ہے۔اور اس میں کوئی نئی اور زائد بات نہیں ہے۔البتہ نظام وصیت میں بیعت کے عمومی مطالبات کو زیادہ معین رنگ میں پیش کر کے ایک مؤثر یاد دہانی کروائی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بیعت اور وصیت کے تقاضوں اور مطالبات کو پوری طرح سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی رضا اور قرب سے نوازے۔آمین۔الفضل انٹرنیشنل 29 جولائی 2005ءصفحه (8) 215