قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 15 of 365

قسمت کے ثمار — Page 15

جهاد بالقلم (از مکرم و محترم کمال یوسف صاحب - امام ومبلغ سلسلہ سکینڈے نیو یا) نزولِ قرآن مجید کی ترتیب کے لحاظ سے سب سے پہلی سورۃ العلق میں اللہ سبحانہ وتعالی نے الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (وہی ہے جس نے قلم کے ذریعہ سکھایا) کے فرمان کے ساتھ مستقبل میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے عہد سعید میں قلمی جہاد کی پیشگوئی فرما کر قلم کی افادیت ، اہمیت اور ضرورت کی طرف امت محمدیہ کو توجہ دلائی ہے۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جس نے تمام ترقی کا راز قلم میں رکھ دیا۔اگر قلم اور تحریر کا ملکہ انسان کو عطا نہ کیا جاتا تو کوئی ترقی ممکن نہیں تھی۔“ اللہ تعالیٰ نے ہمارے آقا و مولیٰ سید نا حضرت محمد مصطفی احمدمجتبی کے خدام ختم المرسلین اور عاشق صادق کو 1901ء میں 'سلطان القلم ( تذکرہ صفحہ 333) کے لقب گرامی سے یاد فرما کر آپ ہی کے قلم کو ذوالفقار علی ( علم کی دودھاری تلوار ) کے نام نامی سے مخاطب فرمایا۔سلطان القلم سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رشحات قلم سے جہاں خدا تعالیٰ کی توحید کے قیام و قرآن حکیم کی برکات اور رسالت مآب حضرت رسول اقدس سیلیا کی تم کی صداقت کے حق میں قطعی اور یقینی دلائل اور علم و معرفت کی بے بہا دولت کے مخفی خزائن مال مفت کی طرح تقسیم ہونے لگی ، وہاں آپ علیہ السلام کا قلم ذوالفقار علی بن کر اسلام دشمنی کا قلع قمع کر کے ہر میدان میں اسلام کی فتح کے جھنڈے گاڑتا رہا۔