قسمت کے ثمار — Page 150
قرار دے گا۔ہفتم : یہ کہ تکبر اور نخوت کو بکلی چھوڑ دے گا اور فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اور حلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔هشتم : یہ کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردی اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنی اولا د اور اپنے ہر یک عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔نم : یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض اللہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خداداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔دہم : یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض اللہ باقرار طاعت در معروف باندھ کر اس پر تا وقت مرگ قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہوگا کہ اس کی نظیر د نیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔اس سلسلہ میں مزید فرمایا: (اشتہار تکمیل تبلیغ 12 جنوری 1889 ) ” میری جماعت میں سے ہر ایک فرد پر لازم ہوگا کہ ان تمام وصیتوں کے کار بند ہوں۔اور چاہئے کہ تمہاری مجلسوں میں کوئی نا پا کی اور ٹھٹھے اور جنسی کا مشغلہ نہ ہو۔اور نیک دل اور پاک طبع اور پاک خیال ہوکر زمین پر چلو۔اور یا درکھو ہر ایک شر مقابلہ کے لائق نہیں۔اس لئے لازم ہے کہ اکثر اوقات عفوا اور درگزر کی عادت ڈالو اور صبر اور حلم سے کام لو۔اور کسی پر ناجائز طریق سے حملہ نہ کرو اور جذبات نفس کو دبائے رکھو اور اگر کوئی بحث کردیا کوئی مذہبی گفتگو ہو تو نرم الفاظ اور مہذبانہ طریق سے کرو اور اگر کوئی جہالت سے پیش آوے تو سلام کہہ کر ایسی مجلس سے جلد اٹھ جاؤ۔اگر تم ستائے جاؤ اور گالیاں دیئے جاؤ اور تمہارے حق میں برے برے لفظ کہے جائیں تو 150