قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 107 of 365

قسمت کے ثمار — Page 107

موعود مالی شام کے مخلص اور پر جوش صحابی بطور مبلغ گئے۔حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیز ابتدائی مبلغ تھے جنہوں نے اس علاقہ کو جسے اس زمانہ میں تاریک براعظم کہا جاتا تھا، روشن براعظم میں تبدیل کرنے کی کوشش کا آغاز کیا۔یہ ابتدائی کوشش بہت ہی چھوٹے پیمانے پر شروع ہوئی تھی۔اندازہ کیجئے کہ ایک آدمی جو اس علاقہ کی زبان سے ناواقف اس علاقہ کی آب و ہوا اس کی صحت کے لئے کسی طرح بھی مفید نہیں ہے، اس کے پاس مالی وسائل بہت ہی محدود بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں ، اجنبی ہونے کی وجہ سے اس کی وہاں کسی سے واقفیت بھی نہیں ہے، وہ تبلیغ کے کام میں کہاں تک کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔البتہ ایک سہولت ضرور اسے حاصل تھی اور وہ ایمان باللہ اور توکل علی اللہ کی نعمت تھی جس کے سہارے اس نے اپنے مقدس کام کو شروع کیا اور پھر بغیر مایوس ہوئے، بغیر تھکنے کے مسلسل پوری محنت سے جاری رکھا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے نیک نیتی اور اخلاص سے شروع کئے ہوئے اس کام میں برکت ڈالی۔سعید روحیں آہستہ آہستہ کلمہ گوؤں اور درود شریف پڑھنے والوں میں شامل ہونے لگیں۔مساجد کی تعمیر شروع ہوئی ، مدارس کی بنیاد پڑی ، ہسپتالوں کا آغاز ہوا اور آج سارے مغربی افریقہ میں خدمت کے میدان میں جماعت ایک ممتاز اور منفرد مقام پر کھڑی ہے۔ہمارے پیارے امام حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ یورپ سے باہر اپنے پانچ ہفتہ کے مغربی افریقہ کے پہلے دورے پر تشریف لے گئے تو MTA پر نظر آنے والے نظارے اتنے ایمان افروز اور روح پرور تھے کہ رپورٹوں میں دوروں کی کامیابی کی خبریں پڑھ کر بھی یہ نظارہ پوری طرح ذہن میں نہیں آسکتا۔اس دورہ میں حضور انور ایدہ اللہ نے مختلف ممالک کے صدور اور حکام سے ملاقاتیں کیں۔مختلف ممالک کے معززین حضور سے شرف ملاقات حاصل کرنے کے لئے تشریف لاتے حضور نے مختلف پراجیکٹس کی بنیاد رکھی ،متعد دعمارتوں کا افتتاح فرمایا، پریس کانفرنسوں رہے۔حضور 107