قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 21 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 21

۲۱ عورت مرد کی تقسیم کار ان کے مخصوص اعضاء اور طالع کے میلان کے مطابق منشاء فطرت ہے " عورتوں میں ثبت پرستی کی جڑ ہے۔کیونکہ ان کی طبائع کا میلان زینت پرستی کی طرف ہوتا ہے۔اور یہی وجہ کے ثبت پرستی کی ابتداء انہی سے ہوئی ہے۔بزدلی کا مادہ بھی ان میں زیادہ ہوتا ہے کہ ذراسی سختی پر اپنی جیسی مخلوق کے آگے ہاتھ جوڑ نے لگ جاتی ہیں۔اس لئے جو لوگ زدن پست ہوتے ہیں۔رفتہ رفتہ ان میں بھی یہ غار میں سرایت کر جاتی ہیں۔پس بہت ضروری ہے کہ ان کی اصلاح کی طرف متوجہ یہ ہو۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔الرجال قومون على النساء اور اسی لئے مرد کو عورتوں کی نسبت قومی نہ یادہ دیے گئے ہیں۔اس وقت جوتی کہ دوستی کے لوگ مساوات پر زور دے رہے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ مرد اور عورت کے حقوق مساوی ہیں۔ان کی محفلوں پر تعجب آتا ہے۔وہ ذرا مردوں کی جگہ عورتوں کی فوجیں بنا کر جنگلوں میں بھیج کر دیکھیں تو سہی کہ کیا نتیجہ مساوی نکاتا ہے یا مختلف۔ایک طرف تو اسے حمل ہے۔اور ایک طرف جنگ ہے۔وہ کیا کر سکے گی عرضیکہ عورتوں میں مردوں کی نسبت قومی کمزور کیں۔اور کم بھی ہیں۔اس لئے مرد کو چاہئیے۔کہ عورت کو اپنے ماتحت رکھے۔یورپ کی طرح بے پردگی پر بھی یہ لوگ زور دے ر ہے ہیں۔لیکن یہ ہرگز مناسب نہیں۔یہی عورتوں کی آزادی فسق وفجور کی جڑ ہے۔جن ممالک نے اس قسم کی آزادی کو روارکھا ہے ذیرا ان کی اخلاقی حالت کا اندازہ کرو۔اگر اس آندادی اور بے پردگی سے ان کی عفت اور پاک اپنی بڑھ گئی ہے۔تو ہم مان لیں گے۔کہ ہم غلطی پر نہیں لیکن یہ بات بہت ہی صاف ہے کہ جب مرد اور عورت جوان ہوں۔اور آزادی اور بے پردگی بھی ہو۔تو اُن کے تعلقات کس قدر خطرناک ہوں گے۔بد نظری ڈالنی اور نفس کے جذبات سے اکثر مغلوب ہو جانا انسان کا خاصہ ہے۔پھر جس حالت میں کہ کہ وہ ہیں بے اعتدالیاں ہوتی ہیں۔اور فسق و فجور کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔تو آزادی میں کیا کچھ نہ ہوگا۔مردوں کی حالت کا اندانہ کر دے۔کہ وہ کس طرح بے لگام گھوڑے