قواریر ۔ قوامون — Page 19
۱۹ خاوند کی فرمانبزاری عورت کا فرض ہے حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہوا سورۃ النساء آیت ۳۵ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں یہ ملوک کے خیالات کا مذہب طرز لباس وغیرہ ہرقسم کے امور کا اخلاقی ہوں یا مذہبی بہت بڑا اثر عایا پر پڑتا ہے۔جیسے ذکور کا اثر اناث پر پڑتا ہے اس لئے فرمایا گیا ہے۔الرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلى النِّساءِ " دالحکم جلد نمبر ۱۵ مورخه ۲۴۷ اپریل ۱۱۹ ص۲) ( وو بھی عورتوں میں خراب عادت ہے کہ وہ بات بات میں مردوں کی نافرمانی کرتی ہیں۔اور ان کی اجازت کے بغیر ان کا مال خرچ کر دیتی ہیں۔اور ناراض ہونے کی حالت میں بہت کچھ برا بھلا ان کے حق میں کہہ دیتی ہیں۔ایسی عورتیں اللہ اور رسول کے نز دیک لعنتی ہیں۔ان کا نماز روزہ اور کوئی عمل منظور نہیں۔اللہ تعالے صاف فرماتا ہے کہ کوئی عورت نیک نہیں ہو سکتی۔جب تک پوری پوری اپنے خاوند کی فرمانبرداری نہ کرے اور دلی محبت سے راس کی تعظیم بجا نہ لائے اور پس پشت یعنی اس کے پیچھے اس کی خیر خواہ نہ ہوا ور پیغمبر گرا صلی اللہ علیہ سلیم نے فرمایا ہے کہ عورتوں پر لازم ہے کہ اپنے مردوں کی تابعدار رہیں۔ورنہ ان کا کوئی عمل منظور نہیں اور نیز فرمایا ہے کہ اگر غیر خدا کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں حکم کرتا کہ عور میں اپنے خاوندوں کو سجدہ کیا کریں۔اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے حق میں کچھ بد زبانی کرتی ہے یا اہانت کی نظر سے اس کو دیکھتی ہے اور حکم کے بانی سُن کر پھر بھی باز نہیں آتی تو وہ لعنتی ہے۔خدا اور رسول اس سے ناراض ہیں۔عورتوں کو چاہیے کہ اپنے خاوندوں کا مال نہ چڑا دیں۔اور نامحرم سے اپنے تئیں بیچا دیں اور یاد رکھنا چاہیے کہ بغیر خاوند اور ایسے لوگوں کے جن کے ساتھ نکاح جائز نہیں اور جتنے مرد ہیں۔ان سے پردہ کرنا ضروری ہے۔جو عورت ہیں نامحرم مردوں سے پردہ نہیں کرتیں شیطان ان کے ساتھ ساتھ ہے۔عورتوں پر یہ لازم ہے کہ