قتل مرتد اور اسلام — Page 5
5 اور مہدی کے آنے کی خوشخبری دی تھی وہ مسیح موعود اور مہدی معہود دنیا میں ظاہر ہوگیا اور خدا کے وعدے اور مقرر کردہ نشان پورے ہوئے۔اُس ہولناک واقعہ نے پرانے زمانہ کا نقشہ ہماری نظروں میں تازہ کر دیا اور مومنین اور دشمنانِ حق کا جو تذکرہ ہم قرآن شریف میں پڑھتے تھے اس کی تصدیق کی۔کیونکہ جب ایک طرف اس شہید مرحوم نے وہی اخلاص، وہی ایمان اور وہی ثبات دکھایا جو انبیاء کے عہد کے سچے مومن ہمیشہ دکھلاتے آئے ہیں تو دوسری طرف کا بل کی گورنمنٹ نے اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جو قدیم سے الہی سلسلوں کے دشمن حق کے پرستاروں کے ساتھ کرتے چلے آئے ہیں۔اگر حضرت نعمت اللہ خاں کی مثال نے حضرت خبیب کی یاد کو ہمارے دلوں میں تازہ کیا تو کابل کے قاتلوں نے ان عمائد قریش کا نمونہ ہمارے سامنے پیش کیا جنہوں نے بے کس اور بے بس مسلمانوں کو نہایت بے رحمی سے شہید کیا۔لیکن ہمیں کابل میں اپنے بھائیوں کے خون بہائے جانے کا اتنا رنج نہیں جتنا اس بات کا رنج ہے کہ کابل کے قاتلوں نے اپنی اس وحشیانہ حرکت کو اسلام کی طرف منسوب کیا ہے اور ہندوستان کے ملانوں نے ریاست کابل کے فیصلہ کی تائید کر کے اور مولوی ظفر علی خان صاحب نے دربار کابل کی حمایت میں مضمون لکھ کر اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی عزت اور نیک نامی پر ایک ناپاک حملہ کیا ہے اس لئے ضرورت ہے کہ اس حملہ کا پورے طور پر جواب دیا جائے تا جو نقصان ان بزرگوں نے اسلام کو پہنچایا ہے اس کا تدارک ہو سکے اور اسلام اور نبی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ان نا پاک الزامات سے بریت ثابت کی جائے۔سو اس غرض کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں اس مضمون پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اس مضمون کے لکھنے میں اپنی خاص تائید سے مجھ کمترین کی مدد فرمائے۔رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِن نِّسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِيةٌ (طه : 26تا29)