قندیل صداقت — Page 93
Wahrhaftigkeit des Verheißenen Messias صداقت حضرت مسیح موعود The Truth of the Promised Messiah مسیح موعود ہمارے آقا ، ہمارے مطاع ہادی برحق حضرت اقدس محمد مصطفی ملی لی ایم نے اپنی امت کے حالات بتاتے ہوئے خبر دی تھی کہ ایک وقت آئے گا جب اس کی دینی حالت اس قدر بگڑ جائے گی کہ ایمان تک باقی نہ رہے گا۔مسلمان محض نام کے رہ جائیں گے، قرآن کے الفاظ تو ہوں گے مگر اس پر عمل نہ ہو گا۔غرضیکہ اُمت بگڑ کر ایسی شدید گمراہی میں مبتلاء ہو جائے گی کہ ظہر الفساد في البر و البحر کا نظارہ ہو گا اور وہ وقت ہر لحاظ سے اُمت کے لئے ہی بہت دردناک وقت ہو گا۔باوجود اس کے کہ یہ خطرناک اور روحانی اور مادی ادبار و تنزل اُمت کے اپنے ہی اعمال و کردار کا نتیجہ ہونا تھا، ہمارے آقا کے دل میں اُمت کے لئے شدید تڑپ تھی، بے چین کر دینے والا درد تھا اور مادر مہربان کی طرح گہری شفقت اور رحمت کا جذبہ تھا۔چنانچہ یہی وجہ تھی کہ آپ نے اس دور ضلالت میں بھی اُمت کے لئے اُمید کی شمع روشن فرمائی اور اُس نور ہدایت کی طرف راہنمائی کرتے ہوئے فرمایا دیکھو اس گھٹاٹوپ اندھیرے میں میرا ہاں میرا ایک غلام صادق اور عاشق کامل ایک سفید مینارے کے ذریعہ آئے گا اور اُمت کے لئے ہدایت اور نور کے سامان کرے گا۔آپ نے اس موعود کا ذکر کرتے ہوئے اُمت کو یہ تاکیدی نصیحت بھی فرمائی کہ دیکھنا اس کو ضرور قبول کرنا خواہ برف کے تودوں پر سے چل کر اس کے پاس پہنچنا پڑے اور اپنے اس پیارے کے لئے اپنا سلام بھی اُمت کے سپر د کیا تھا۔مگر افسوس کہ جب ہمارے پیارے نبی صلی لیلی کلی کا پیارا مہدی ظاہر ہوا تو لوگوں نے اس کو قبول نہ کیا تاہم خدا نے قبول کیا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر فرمائی اور کیاز مین اور کیا آسمان ہر ایک نے اس کی صداقت کی گواہی دی کیا جن اور کیا انس، حتی کہ دریاؤں، سمندروں، پہاڑوں اور جانوروں تک نے شہادت دی کہ ہاں یہی موعود ہے اور یہی وقت ، مہدی معہود کا وقت ظہور ہے۔آئندہ صفحات میں انہی نشانات کا تذکرہ کیا جارہا ہے مگر بزرگان اُمت کی کتب کے حوالہ سے جنہوں نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی آمد سے بہت پہلے یا متصل پہلے ظاہر ہونے والے ان نشانات کو مختلف انداز میں اپنی تصانیف میں محفوظ کر چھوڑا تھا۔اور یہ تمام نشانات میں اپنے وقت پر بڑی ہی شان کے ساتھ پورے ہوئے۔الحمد للہ۔ثم الحمد للہ۔93