قندیل ہدایت — Page 95
95 of 1460 حة ہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ان میں سے افضل حضرت البو بگریت رضی اللہ عنہ ہیں۔امام شافعی " جو اصحاب کے حالات سے بخوبی واقف ہیں۔انہوں نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگ بہت بیقرار ہو گئے۔پس ان کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بہتر کوئی شخص آسمان کے سایہ تلے نہ ملا۔پس انہوں نے ان کو اپنا والی بنا لیا۔یہ صریح دلالت ہے۔اس بات پر کہ تمام صحابہ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کے افضل ہونے میں متفق ہیں اور ان کے افضل ہونے میں یہ اجماع صدر اوّل میں ہوا اور یہ اجماع قطعی ہے جس میں انکار کو دخل نہیں ہے اور اہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مثال کشتی نوح علیہ السلام کی فطرت ہے، جواس اس پر سوار ہوا بچ گیا۔اور وہ اس سے پیچھے بشار یا وہ ہلاک ہو گیا۔بعض عارفوں نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب کو ستاروں کی مانند فرمایا اور اہل بیت کو کشتی فوج کی طرح اس میں اشارہ ہے کہ کشتی کے سوار کے لئے ستاروں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے تاکہ وہ ہلاک ہونے سے بچ جائے اور ستاروں کی رعایت کے بغیر نجات بالکل محال ہے اور اس بات کو اچھی طرح معلوم کریں کہ بعض کا انکار کرنا سب کے انکار کو مستلزم ہے کیونکہ حضرت خیر البشر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صحبت کی فضیلت میں سب صحابہ مشترک ہیں۔اور صحبت کی فضیلت تمام فضیلتوں اور کمالوں سے بڑھ کر ہے۔یہی وجہ ہے کہ اویس قرنی جو تمام تابعین میں سے اچھا ہے۔ایک اونی صحابی کے درجے کو نہیں پہنچا ہے پی صحبت کی فضیلت کے برابر کوئی چیز نہیں۔اور نہ ہوگی کیونکہ ان کا ایمان صحبت اور نزول وحی کی برکت سے شہوری ہو گیا تھا۔اور صحابہؓ نہ کے بعد کسی کو اس درجہ کا ایمان نصیب نہیں ہوا۔اور اعمال ایمان پر مرتب ہوتے ہیں اور ان کا کمال ایمان کے کمال کے موافق حاصل ہوتا ہے اور جو کچھ ان کے درمیان جھگڑے افع ہوتے ہیں۔سب بہتر حکمتوں اور نیک گمانوں پر محمول ہیں۔وہ حرص وہوا اور جہالت سے نہ تھے بلکہ و اجتہاد اور علم کی رو سے تھے۔اور اگر ان میں سے کسی نے اجتہاد میںخطا کی تو اللہ تعالی کے نزدیک خطا کار کے لئے بھی ایک درجہ ہے اور یہی افراط و تفریط کے درمیان سیدھا راستہ ہے جس کو اہل سنت نے اختیار کیا اور یہی بچاؤ والا اور مضبوط راستہ ہے۔marfat۔com