قندیل ہدایت — Page 863
863 of 1460 مشکوة شریف مترجم جلد سوم فيها فكانت قبرها۔۲۱۷ حضور کی وفات کا بیان پھر ایک دردہ اسی متنازعہ زمین کے گھر میں چل رہی تھی کہ ایک کنوئیں یا گہرے غار میں گر پڑی اور وہی اس کی قبرین گیا۔حضرت عیہ کی کرامت وعن ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بَعَتَ جَيشَا وَ أَمَرَ عَلِهِم حضرت ابن عمر رضہ کہتے ہیں کہ عمر نے ایک لشکر و نهادند کی طرف تجلاً يدعى سَارِيَة بَيْنَمَا عُمَرُ يَخْطُبُ بھیجا اور اس پر صاریہ کو مقرر کیا ایک روز عرفہ مسجد نبوی میں جمعہ کا خطبہ فَجَعَلَ يَضِيعُ يَا سَارِيَةُ الْجَبَلَ فَقَدِمَ رَسُولُ پڑھ رہے تھے کہ یکا یک آپ نے بلند آواز سے کہا۔ساریہ پہاڑ من الجيشِ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَقِينَا کی طرف اس واقعہ کے چند روز بعد لشکر سے ایک قاصد آیا۔اور عَدُونَا فَهَتَمُونَا فَإِذَا بِصَالِحٍ بَصِیر عمریہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔امیر المومنین ! ہمارے دشمن نے يَا سَارِيَة الجَبَلَ فَاسُندُنَا ظُهُورَنَا ہم پر حملہ کیا اور ہم کو شکست دی۔ناگہاں ہم نے ایک پکارنے والے إلَى الْجَبَلِ فَهَزَمَهـ اللهُ تَعَالَى رَروائی کی آواز سنی جو کہ رہا تھا اے ساریہ پہاڑ کی جانب چنانچہ ہم نے پہاڑ اے کو اپنی پشت پناہ قرار دیا اور پھر خداوند تعالے نے دشمنوں کو شکست دی۔البيهقي في دلائل النبوة - دوور و کعب اجبارہ کی کرامت ون بيعَةَ بنِ وَهْبٍ أَنَّ كَعْبَا دَخَلَ نبیہہ بن وہب کہتے ہیں کہ کعب حضرت عائشہ نہ کی على عَالِ فَذَكَرُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله خدمت میں حاضر ہوئے اس مجلس میں رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کا ذکر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَعْبٌ مَا مِنْ يَومٍ يطلع الا ہوا کتب نے کہا کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ اس میں آفتاب طلوع ہوتا ہو اور ستر ہزار فرشتے آسمان سے نہ اترتے ہوں ریعنی روزانہ صبح کے بِقَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم وقت اتنے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کی غیر کو يَضْرِبُونَ بِأَجْنِحَتِهِ وَيُصَلُّونَ عَلَى رَسُولِ گھیر لیتے ہیں اور انوار قبر سے برکت حاصل کرنے کیلئے بازوں کو قبر پھیلا اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا اسوا ہیں اور رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے رہتے ہیں یہانتک کہ جب عر جوا وَ هَبَطَ مِثْلُهُمْ نَصَنَعُوا مِثْلَ ذلك شام ہو جاتی ہے، قویہ فرشتے آسمان پر چلے جاتے ہیں اور اتنے ہی فرشتے حَتَّى إِذَا أَنشَقَّتْ عَنْهُ الْأَرْضُ خَرج دوسرے آجاتے ہیں اور صبح تک یہی کرتے ہیں اس وقت تک یہ سلسلہ فِي سَبْعِينَ النَّا مِنَ المَليلة يرفعون جاری رہے گا۔جبکہ قیامت کے دن قبر پھٹے گی اور آپ قبر سے برآمد سروال الدارمي ہونگے اور ستر ہزار فرشتوں کے درمیان خداوند تم کے پاس چلے جائیں گے۔ه بَاب وَفَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان فصل اقل جب اہل مدینہ کے نصیب جاگے تھے (داری) عَنِ البَرَاءِ قَالَ اَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا حضرت براء بن عازب کہتے ہیں کہ رسو الشر صلی الہ علیہ وسلم کے