قندیل ہدایت — Page 820
820 of 1460 ۳۹ مخدرات میں ایک یہ کہ خاتم طبقات خانه به عصر آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوئے ہوں دوسریہ کہ مقدم ہوئے ہوں تیرے یہ کہ ہم عصر ہوں احتمال اول حدیث لا نبی بعدی وغیرہ باطل ہے اور بر تقدیر احتمال تبانی آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم انبیاء ۴ طبقات ہو نگے اور مرتف دیم ثالث دو احتمال ہیں۔ایک یہ کہ نبوت آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخصوص تھا ایک ہی طبقہ کے ہو اور آپ کی خاتمیت بہ نسبت انبیاء اسی طبقہ کے ہو اور ہر طبقہ تحتانیہ میں وہاں کے خاتم کی رسالت ہو اور ہر ایک ان میں کے صاحب شرع جدید و خاتم انبیا، اپنے طبقات کا ہو دوسر یہ کہ خواتم طبقات تحتانیہ متبع شریعت محمدؐ یہ ہوں اور کوئی ان میں کا صاحب شروع جدید نہ ہو اور دعوت ہمارے حضرت کی عام اور ختم آپکے بہ نسبت جملہ انبیاء ۴ جملہ طبقات کے حقیقی ہو اور ختم ہر ایک خاتم باقیہ کا بہ نسبت اپنے اپنے سلسلہ کے اضافی ہو۔احتمال اول بسبب عموم نصوص بعثت نبویہ کے کہ جس سے صاف آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مبعوث ہونا تمام عالم پر معلوم ہوا ہے باطل ہے اور علماء اہل سنت بھی اس امر کی تصریح کرتے ہیںکہ آنحضرت کے عصر میں کوئی بنی صاحب شرع جدید نہیں ہو سکتا اور نبوت آپ کی علم ہے اور جو نبی آپ ہم عصر ہو گا وہ مستبع شریعت محمدیہ کا ہو گا چنانچہ تقی الدین سبکی سر جلال کیا سیوطی اپنے یار الاعلام بجگر جیسے علیہم السلام میں نقل کرتے ہیں قال السبکی فی تفسیر لہ عام من بنى الا اخذ الله علیہ المیثاق انه ان بعث محمد فی زمانہ لیو منن نه ولينظر و جوے أمته بذلك وفيه من النبوة وتعظيم قادة مما لا نجتنے وفيه مع ذلك انه على تقدير محير في زمانهم يكون موسلا اليهم يكون نبوت ورسالته عامة لجميع الخلق من نمر ادم إلى والقيا ويكون الانبياء اسم جو کہ ہو من امتخال نے صلی اللہ علیہ وسلم نبي الانبياء ولو أتفق احشت نی زمین ادم روز 7 وابراهیم موسی جیسے وجب عليهم وعلى اسمهو الايمان بونصورتم وانزاباتی جیسے فى اخر الزمان علی شریعتہ ونو بعث النبي عليه الصَّلوة والسلام فوز نام وفی زما مینی و ابراهیم نوح فارم کانوا مستمرین چلے نبوت و رسالہ تو الى اسمجھو اپنے علیہ السلام نبی علیہ ڈر سوالی جمعیت ہے۔انتھی اور حر العلوم مولا نا عبد العلی اپنے رسالہ تح الرحمن میں لکھتے ہیں مقتضی ختم رسالت دو چیزست بچے آنکہ بعد کے رسول نباشد آنکه شرع ولے عام باشد و هر کسیکه موجود باشد وقت نزول شرع کی اتباع شرع ہے و فرض ست وسرش ایک ہمہ اسل در اخذ شرع مستمد از خاتم رسالت اند چونکه شروع