قندیل ہدایت — Page 718
718 of 1460 ۴۳۷ رسل رسول علیہ رسل علیہم الصلوۃ واسلام میں سے معراج پانے والے رسول کریم علیہ السلام پہنچے۔شیخ نے کہا: یہ دلالت کرتا ہے کہ اسراء حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے جسم اقدس کے ساتھ تھا۔اور اگر اسراء کوئی خواب ہوتا جو کہ آپ نے دیکھا تو اسراء اور نہ ہی اس مقام تک رسائی مدح وستائش قرار پاتی۔اور نہ ہی اعرابیوں سے اس کے بارے میں انکار واقع ہوتا کیونکہ خواب میں تو انسان اللہ تعالیٰ کی زیارت کرنے کے مقام تک پہنچ جاتا ہے جو کہ اشرف الحالات ہے۔اور اس کے باوجود اس کے لئے نفوس میں وہ مقام نہیں ہے۔کیونکہ ہر انسان بلکہ ہر حیوان کے لئے خواب کی قوت ہے۔شیخ نے فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علی سبیل المدح یہ فرمایا کہ حتی کہ میں مستوی تک پہنچا جہاں میں نے صرف اقلام سنی۔اور آپ نے حرف غایت جو کہ حتی ہے اس سمت اشارہ کرنے کو استعمال فرمایا کہ قدم محسوس کے ساتھ سیر کی انتہاء عرش ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم۔خاتمہ شیخ نے 10 ویں باب میں یہ ذکر کیا ہے کہ اگر کہا جائے کہ انبیاء علیہم الصلواۃ والسلام پروتی کے نزول اور اولیا ء پر فرشتہ الہام کے ہاتھوں خواب میں اس کے نزول کے مابین کیا فرق ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ نبی پر وحی کا نزول اس کے قلب اور اس کے سینے پر ہوتا ہے کیونکہ اسکی نبوت اس کے مشاہدہ میں ہوتی ہے۔البتہ اولیاء پر اس کا نزول ان کے حجابات کے پیچھے ان کے دونوں پہلوؤں کے درمیان ہوتا ہے۔پس وحی ان کے لئے پشت میں ہوتی ہے نہ کہ ظہور میں۔اور اسی کی طرف بعض عارفین کے اس قول کا اشارہ ہے کہ بایزید بسطامی کا وصال نہیں ہو حتیٰ کہ آپ نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وراثت کے طور پر الہام کے طریقے سے اللہ تعالی سے قرآن پاک کے تمام معانی کے قسم میں استفادہ کیا۔اور جس نے اس طرح قرآن پاک کے معانی کا استفادہ کیا تو بیشک اس کے دونوں پہلوؤں کے درمیان فیوض نبوت درج ہو گئے۔اور اس مسئلہ میں آپ نے طویل گفتگو فرمائی۔اور اس کی تفصیل اس مقام سے زیادہ مباحث ولایت میں آرہی ہے انشاء اللہ تعالی۔واللہ تعالیٰ اعلم پینتیسویں بحث حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاتم النبین ہونے کے بارے میں جیسا کہ قرآن کریم نے اس کی تصریح فرمائی۔جان لے کہ اس پر اجماع منعقد ہو چکا ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم المرسلین ہیں جس طرح کہ آپ خاتم النبین ہیں گرچہ آیت میں نہین سے مراد مرسلین ہی ہیں۔اور فتوحات کے ۴۶۲ ویں باب شیخ بھی الدین کی عبارت ( کا ترجمہ ) یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوات والتسلیمات کے ساتھ تمام شریعتوں کو ختم فرمایا دیا ہے تو آپ کے بعد کوئی رسول نہیں جو شریعت جاری کرے نہ ہی آپ کے بعد کوئی نبی جس کی طرف کسی شریعت کا پیغام بھیجا جائے جس کے ساتھ وہ اپنی ذات میں عبادت کرے۔قیامت تک لوگ صرف آپ کی شریعت کے ساتھ عبادت کریں گے۔امام شعرانی فرماتے ہیں کہ میں کہتا ہوں کہ رہا ائمہ کا اجتہاد اور احکام کے بارے میں ان کا بیان شریعت تو یہ آپ کی اجازت سے ہے۔علاوہ ازیں استنباط میں ان کا قوام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت ہی ہے جو کہ ثابت ہے کتاب ہو یا سنت۔اور یہاں سنت سے میری مراد حدیث ہے اور سنت کے ساتھ ہر وہ حکم لاحق ہے جو کہ فرع کو اصل پر قیاس کے ذریعے مجتہد سے صادر ہوا کیونکہ یہ بھی سنت