قندیل ہدایت — Page 689
689 of 1460 مباحثہ شاہجہاں پور ۲۴ ہوتا ہو کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور صفت سے مستفید میں اور حضرت عیسی علیہ السلام اور صفت سے مستفید ہیں کیونکہ حضرت عیسی علیہ السلام میں بدلالت احیار موتے انفار امراض مضمون جاں بخشی کا پتہ لگتا ہو اور حضرت موسئے علیہ اسلام میں بدلالت اعجوبہ کاری عصائے موسوی کہ کبھی عصا تھا کبھی اژدہا تھا یہ معلوم ہوتا ہی کی صفت تبدیل و تقلیب کا سراغ نکلتا ہی مگرحضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مینمن الت اعجاز قرآنی و کمالات علم یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ صفت علم نے سفید میں اور درگا ملی میں باریاب میں مگر سب جانتے ہیں کہ علم وہ صفت ہو کہ تمام صفات اپنی کارگزاری میں سکو محتاج ہیں میں کسی صفت کا محتاج نہیں کون نہیں جاتا کہ ارادہ قدرت وغیر علم ہی صفات بے علم وادراک کسی کام کے نہیں۔روٹی کھانے کا ارادہ کرتے ہیں اور پھر کھاتے میرقع اول سمجھ لیتے ہیں کہ یہ روٹی ہی بھر نہیں اور پانی پینے کا ارادہ کرتے ہیں یا ہلتے ہیں تو یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ پانی پیشن نهمین یہ علم نہیں تو اور کیا ہی مگر یہ وٹی کو روٹی سمجھنا اور پانی کوپانی کبھنا ارادہ قدرت پر موقوف نہیں اگر روٹی سامنے آجائے پاپانی سامنے سے گزر جائے تو بے ارادہ و اختیار وہ روٹی اور مہربانی علوم ہو گا القصہ علم کواپنے معلمات کے تعلق میں کسی صفت کی ضرورت نہیں مگر باقی تمام صفات کواپنے تعلقات میں علم کی صاحبت ہی غرض ہو صفات غیر سے متعلق ہوتے ہیں۔اُن سب میں علم اول ہو اور سب پر افسر ہی اور علم سے اول اور کو کئی صفت نہیں بلکہ علم ی پر مراتب صفات متعلقہ بالغیر ختم ہو جاتے ہیں اس لئے وہ نبی جو صفت العلم سے مستفید ہو اور بارگاہ علمی تک باریاب ہوتا می انبیا سے مراتب بین زیادہ اور رتبہ بین اول اور سب کا سردار او سب کا تخدم مکرم ہوگا اورسب اسکے تابع تاج ہونگے اس پر رات کات ختم ہو جائینگے اسلئے وہ نبی خاتم الانبیاء بھی ضرور ہی ہو گا وجہ اسکی یہ ہو کہ انبیا بوجہ احکام رسانی مثل گورنر وغیرہ نواب خداوندی ہوتے ہیں۔لئے انکا حاکم ہونا ضرور ہو چنانچہ ظاہر ہو اسلئے جیسے عہدہ ہواسے ماتحت میں ہے میں اوپر عہدہ گورنری یا وزارت ہو اور سوا اسکے اور سب عہدے اُسکے تحت ہوتا نہیں