قندیل ہدایت — Page 462
462 of 1460 ۴۴۲۴ بتلا کہ یہاں بھی کسی شفاخان کے قیام کی حاجت ہے؟ کیا ایسی صحت و تندرستی کے ماحول میں پیاروں کے قیام کے لئے مکانات ڈاکٹروں اور شفا خانوں کا وجود مقامی ضروریات میں داخل سمجھا جائے گا اور اگر یہ بھی فرض کر لو کہ اس خطہ بھیجا گیا ہے ہمارے لئے بھی اسی طرح ڈاکٹر کیوں نہیں بھیجا گیا۔لقد من الله عَلى المُؤمِنينَ إذ بعث فيهم رَسُولاً لمهم الكتاب والحكمة وإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَى۔حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عام گمراہی کے بعد تشریف لا کر صرف خدائی آیات پڑھ کرہی نہیں سنائیں بلکہ اس کو سمجھا بھی دیا اور سپر پر کیمیکل را رہا ہے۔اس لئے آپ آپ کی اس ہمہ گیر تعلیم کے بعد اول تویہ مکن ہی نہیں کہ جوانیم کفر اس طرح غائب پائیں کہ عالم کی صحت عامہ کسی بیرونی ڈاکٹر کی محتاج ہو جائے دوم ان کو اس حد تک اصول طب کی تعلیم بھی دیدی تھی ہے کہ اگر نہیں کر مر جائے تو اس کا آئینی علاج وہ خود کر سکے ہیں اگر اس پردہ کار بندنہ ہوں تو جہان کا تصور رہے گا۔پیس به شوی غلط یہی ہے کہ ختم نبوت کو کمالات کے ختم کے ہم معنی مجھ لیا گیا ہے۔ہمارے اس بیان سے روشن ہوگیا کہ نبوت کا ختم ہونا تو خدائی نعمت کے اتمام اور دین کے انتہائی ارتعار وعروج کی دلیل ہے البتہ کمالات و برکات کا خاتمہ بلاشبہ العرومی ور بڑی محرومی ہے گریہ روایات سے ثابت ہے کہ امت مرحومہ کے کمالات تمام امتوں سے زیادہ ہیں اور اتنے زیادہ ہیں ک حضرت موسی علیہ السلام جسے نبی کو ہی اس امت کے کمالات سن کر تار ہوسکتی ہے کہ وہ بھی اس امت کے ایک فرد ہوتے۔خفاجی نسیم الریاض کی شرح میں حضرت انس سے ایک معایت نقل کرتے ہیں یہ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الہ تعالی نےحضرت موسی علیہ السلام پر جی بیچی جوشخص حمد صلی اللہ عیہ وسلم کا انکار کر کے میرے پاس آئے گا میں اسے دوزخ میں ڈالوں گا انھوں نے عرض کیا یہ احمد (صلی الہ علیہ وسلم کون میں ارشاد ہوا یدہ ہیں جن سے زیادہ مجھے اپنی مخلوق میں کوئی عزیز نہیں۔زمین و آسمان سے قبل ہی میں نے ان کا نام اپنے نام کے ساتھ ساتھ عرش پر لکھ رہا تھا اور ہ بات لے کر دی تھی کہ جب تک وہ اور ان کی امت جنت میں داخل نہ ہوئیں کوئی اور جنت میں داخل نہیں ہو سکے گارم علیہ السلام نے اس امت کے اوصاف لیو چھے۔ارشاد ہوا کہ وہ بہت ہروقت ہماری تعریف کر کی بلندی پر مرے گی تو تعریف کرتی ہوئی بستی میں اتری تو تعریف کرتی ہوئی غرض ہر حال میں ہماری حد و شنار کرے گی۔اپنی کریں باندہ ہے والی میں میں و ہے اپنے اعتضاد ھونے والی دن کی روشنی میں شیر کی طرح بہادر) اور رات کی تاریکیوں میں درویش صفت ہوگی۔ان کا تھوڑا سا عمل میں قبول کروں گا اور کلمہ شہادت پر انہیں جنت میں داخل کروں گا۔موسی علیہ السلام نے فرمایا اے اللہ تو مجھے اس امت کا نبی بنادے ارشاد ہوا کہ اس کا نبی تو خود ان ہی میں سے ہوگا۔عرض کیا اچھا تو پھر اس نبی کی امت ہی میں بنادے۔ارشاد ہوا کہ تم ان سے پہلے ہو وہ تمہارے بعد آئیں گے البتہ میں اپنے دار جلال میں تمہیں اُن کے ساتھ جمع کی ہیں ند بود او د نیاسی و احمد اور ابو ایسی میں ہے۔كارت هذه الامر ان تكونوا یہ امت مجموعی اعتبار سے بلحاظ کمالات انبیاء انبياء كلها - ہونے کے قریب ہے۔الله محتاجی فرماتے ہیں رواہ ابو سم فنی کلیه و در بناه من طرق كثيرة کمافی الخصائص (نسیم الریاض ج ۱ ص ۳۳)