قندیل ہدایت — Page 459
PAI 459 of 1460 تذكرة الحبيب ۲۸ بند حق تعالٰی کی ثنا کے بعد اپنے اپنے فضائل بیان کئے۔جب حضور ﷺ کے خطبہ کی نوبت آئی جس میں آپ ﷺ نے اپنا رحمتہ للعالمین ہونا اور سارے انسانوں کی طرف مبعوث ہونا اور اپنی اُمت کا خیر الام وامت وسط ہونا اور اپنا خاتم النبین ہونا بھی بیان فرمایا اس کو سن کر ابراہیم ال نے سب انبیاء علیہم السلام کو خطاب کر کے فرمایا کہ بھذا فضلكم محمد ﷺ یعنی ان ہی فضائل سے محمد تم سے بڑھ گئے۔ابراہیم علیہ السلام کا یہ ارشاد ہزار اور حاکم نے بھی حضرت ابو ہریرہ یہ سے روایت کیا ہے۔(کذافی المواہب) چوتھی روایت : حضرت ابن عباس ع نے فرمایا اللہ تعلی نے محمد ﷺ کو انبیاء پر بھی فضیلت دی اور آسمان والوں (فرشتوں) پر بھی فضیلت دی ہے۔دار می کذافی المشکوة) پانچویں روایت حضرت انس ے سے روایت ہے کہ اللہ تعالٰی نے موسی علیہ السلام سے فرمایا : بنی اسرائیل کو بتادو کہ جو شخص مجھ سے اس حالت میں ملے گا کہ وہ احمد (ﷺ) کا انکار کرنے والا ہو گا تو میں اس کو دوزخ میں داخل کروں گا خواہ وہ کوئی بھی ہو۔موسی علیہ السلام نے عرض کیا: احمد (ﷺ) کون ہیں ؟ ارشاد ہوا موی قسم ہے اپنی عزت و جلال کی میں نے ایسی کوئی مخلوق پیدا نہیں کی جو میرے نزدیک ان سے زیادہ عزت والی ہو، میں نے آسمان و زمین شمس و قمر پیدا کرنے ۲۰ لاکھ سال پہلے ان کا نام اپنے نام کے ساتھ عرش پر لکھا تھا۔قسم ہے اپنی عزت و جلال کی کہ جنت میری تمام مخلوق پر حرام ہے جب تک کہ محمد ﷺ اور ان کی امت اس میں داخل نہ ہو جائے پھر اُمت کے فضائل کے بعد یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے عرض کیا : اے رب! مجھ کو اس اُمت کا نبی بنا دیجئے۔ارشاد ہوا!! اس اُمت کا نبی اس میں سے ہوگا۔عرض کیا ! تو مجھے کو ان (محمد ﷺ کی امت میں سے بنادیجئے۔ارشاد ہوا تم پہلے ہو گئے۔