قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 419 of 1460

قندیل ہدایت — Page 419

419 of 1460 ۵۲۶ کہ اپنی آنکھیں بند رکھیں۔" یعنی: آنی اَبْصَارِ الْعُيُونِ مِنَ الشَّهَوَاتِ وَابْصَارِ الْقُلُوبِ عَنِ المَخْلُوقَاتِ۔یعنی آنکھوں کی بینائی شہوتوں سے بند رکھیں اور دل کی آنکھیں مخلوقات سے۔تو جو مجاہدہ سے سر کی آنکھیں شہوتوں سے بند رکھے، وہ ضرور حق کو سر کی آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے۔فَمَنْ كَانَ اَخْلَصَ مُجَاهِدَةً كَانَ أَصْدَقُ مُشَاهَدَةٌ۔جو مجاہدہ میں مخلص ہوتا ہے وہ مشاہدہ میں سچا ہوتا ہے۔“۔سہیل بن عبد اللہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مَنْ غَضٌ بَصَرَهُ عَنِ اللَّهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ لَّا يَهْتَدِي طُولَ عُمُرِہ "جو شخص اللہ تعالیٰ سے ایک پل آنکھ بند کرے وہ مادام العمر ہدایت نہیں پاتا۔اس لیے کہ غیر کی طرف مائل ہونا غیر کی طرف جانا ہے اور جو غیر کی طرف مائل ہوا وہ ہلاک ہوا۔چنانچہ اہل مشاہدہ حیات اسے کہتے ہیں جو مشاہدہ میں ہو اور جو مغائبہ میں ہو اسے زندگی نہیں سمجھتے بلکہ حقیقت حق کہتے ہیں۔چنانچہ حضرت ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا : آپ کی عمر کتنی ہے؟ فرمایا: چار سال لوگوں نے کہا: کس طرح ؟ فرمایا: ستر سال میں دنیا کے حجاب میں رہا اور چار سال سے مشاہدہ میں ہوں، لہذا حجاب کے زمانہ کی عمر زندگی نہیں تھی۔شیلی رحمۃ اللہ علیہ نے دعا کے اندر فرمایا۔اللهم أَخْبَةِ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ فِي خَبَايَاء غَيْبِكَ حَتَّى تُعبَدَ بِغَيْرِ وَاسِطَة "الہی ! جنت و دوزخ کو اپنے غیب کے خزانوں میں پوشیدہ رکھ اور اس کی یاد مخلوق کے دل سے فراموش فرما، ہتا کہ تجھے اس کے لیے نہ پوجیں“۔چونکہ بہشت میں طبیعت کو فائدہ ہے۔اس لیے آج کے روز بے یقین ، یقین کے حکم سے ہتظمند اس کی امید پر عبادت کرتا ہے اور جب دل کو محبت سے نصیب نہیں تو ضرور مشاہدہ سے محجوب ہوتا ہے اور حضور سے کام نے حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کو معراج سے خبر دی کہ میں نے نہیں دیکھا۔اور ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ملے تم نے مجھے فرمایا کہ میں نے حق کو دیکھا ہے۔تو مخلوق اسی اختلاف میں رہی۔جنہوں نے غور اور تامل اختیار کیا وہ مطلب کو پہنچے۔یعنی جو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اس کو نہیں دیکھا وہ سر کی آنکھوں سے مراد نہیں ہے اور جو آپ سے ہم نے فرمایا کہ میں نے دیکھا ہے وہ پشم سر دیکھنا مراد ہے۔اس لیے کہ ایک ان دونوں سے اہل ظاہر ہے اور ایک اہل باطن۔ہر ایک سے اس کے حال کے موافق کلام فرمایا۔تو جب حضور م نے بچشم سر دیکھنا ظاہر فرمایا تو اگر آنکھ کا واسطہ نہ ہوا تو نقصان ہے۔حضرت جنید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر خداوند فرمائے کہ مجھے دیکھ ، میں کبھی نہ دیکھوں۔Marfat۔com