قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 417 of 1460

قندیل ہدایت — Page 417

كشف المحجوب 417 of 1460 ۳۱۳ ہے کہ وہ مشاہدہ حلق میں مشغول رہیں جو زندگی کا حصہ حق تعالیٰ سے دور کی میں گذرتا ہے وہ اسے زندگی میں شمار ہی نہیں کرتے اور حقیقت میں ان کے لیے موت کے برابر ہوتا ہے۔حضرت بایزید بسطامی سے آپ کی عمر لر بھی گئی تو آپ نے فرمایا چار سال یا پرداخت دیگر چالیس سال لوگوں کو تعجب ہو تو آپ نے فرمایا میں منتر برس تک دنیوی حجابات میں رہا ہوں۔صرف بھارہ سال سے مشاہرہ حق میں مصروف ہوں۔حجاب کا زمانہ شامل زندگی نہیں ہوتا۔شبلی دعا میں کہا کرتے تھے۔اسے خدا ! دوزخ جنت کو چھپائے تاکہ تیری عبادت بلا واسطہ اور بغیر کسی لالچ کے ہو۔طبیعت میں بہشت کی خواہش ہوتی ہے اور اکثر عبادت اسی لیے کی جاتی ہے دل میں محبت تھی یا گزریں نہیں ہوتی اور آدمی پنی غفلت کی وجہ سے مشاہد و حق سے محروم رہتا ہے۔بغیر صلے اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعہ معراج بیان کرتے ہوئے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ میں نے حق تعالیٰ کو نہیں دیکھا حضرت عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ حضور صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مں نے علی تھائی کو دیکھا۔لوگوں میں اس بات پر اختلاف در دنا جو از گردوستان تقی نے جو بہتر صورت تھی اسے مین لیا یعنی آپ نے جو یہ فرمایا ک میں نے حق تعالی کو نہیں دیکھا۔اس سے مراد ظاہر کی آنکھ سے دیکھنا تھا۔دونوں میں ایک صاحب باطن تھا۔اور دوسرلائل ظاہر آپ نے ہر ایک سے بعد نیم بات کی جیب چشم م م باطن سے دیکھ لیا تو چشمہ ظاہر سے نہ دیکھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔جیدہ فرماتے ہیں کہ اگریقی تعالی فرمائے کہ مجھے دیکھے تو میں دیکھیوں کی یک صحبت میں آنکھ کی حیثیت غیر اور بیگانے کی ہے۔زنک غیر مانع دیار ہے۔جب دنیا میں اس کو اسطرحیم کے بغیر دیکھتا رہا ہوں تو آخرت میں اس کا واسط کیوں تلاش کروں۔شعر اترجمہ ) مجھے تیرے دیکھنے والوں پر رشک آتا ہے۔جب میں تیری طرف دیکھتا ہوں تو اپنی سنکھ بند کرتا ہوں۔غالب نے اسی مضمون کو یوں ادا کر دیا ہے (مترجم) دیکھنا قسمت کہ اپنے آپ رشک آ جائے ہے میں تجھے دیکھوں پھیلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے toobaa-elibrary۔blogspot۔com