قندیل ہدایت — Page 415
415 of 1460 www۔sirat-e-mustaqeem۔com Kashf-ul-Mahjoob - 374 حضرت شبلی علیہ الرحمتہ اپنی دعا میں کہا کرتے کہ "اللهم اخياً الجنة والنار اے خدا جنت و دوزخ کو اپنے غیب کے خزانوں میں في جنايا غيبك حتى پوشیدہ رکھ اور ان کی یاد لوگوں کے دلوں سے فراموش کر نعبدك بغير واسطة - دے تا کہ ہم بغیر کسی واسطہ کے خالص تیری عبادت سیکھیں۔جب طبیعت کو حصول جنت کا لالچ ہوگا تو یقینی طور پر ہر عقلمند اسی کے حصول کے لئے عبادت کرے گا اور جس دل میں محبت کا حصہ نہ ہو وہ غافل ہے یقیناً وہ مشاہدے سے حجاب میں ہے۔رسول اللہ ﷺ نے شب معراج کے سلسلہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو خبر دی کہ میں نے خدا کو نہیں دیکھا اور حضرت ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ آپ نے مجھے بتایا کہ میں نے خدا کو دیکھا۔لوگ اس اختلاف میں پڑے ہوئے ہیں لیکن جس نے غور کیا وہ اس اختلاف سے نکل گیا۔چنانچہ جس سے یہ فرمایا کہ میں نے دیکھا۔اس نے چشم باطن سے دیکھنا مراد لیا اور جس سے یہ فرمایا کہ میں نے نہیں دیکھا اس سے چشم سر سے دیکھنا مراد لیا۔کیونکہ ان دونوں میں ایک صاحب باطن ہے اور دوسرا اہل ظاہر۔ہر ایک سے اس کے حالات کے بموجب کلام فرمایا۔لہذا جب باطنی آنکھ سے دیکھا تو اگر سر کی آنکھ کا واسطہ نہ ہو تو کیا مضائقہ ؟ حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر حق تعالیٰ مجھ سے فرمائے کہ مجھے دیکھ، تو میں عرض کروں گا کہ میں نہیں دیکھتا کیونکہ آنکھ، محبت میں غیر اور بیگانہ ہے۔اور غیریت کی غیرت مجھے دیدار سے باز رکھتی ہے۔کہ میں دنیا میں اسے آنکھ کے واسطہ سے دیکھوں۔اور آخرت میں واسطہ کا کیا کروں گا خدا ہی ہدایت فرمانے والا ہے۔واللہ اعلم بالصواب واني لا حسد ناظري عليك فاغض طرف اذا نظرت اليك یقیناً میں تیری طرف نظر اٹھانے میں حسد کرتا ہوں۔اور جب تیری طرف دیکھتا ہوں تو آنکھوں کو بند رکھتا ہوں کیونکہ محبوب کو آنکھ سے چھپاتے ہیں۔اس لئے کہ آنکھ بریگا نہ اور غیر ہے۔لوگوں نے حضرت شیخ سے دریافت کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ خدا کا دیدار ہو؟ فرمایا نہیں۔پوچھا کیوں؟ فرمایا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے چاہا تو انھیں دیدار نہ ہوا اور حضور اکرم ﷺ نے نہ چاہا تو دیدار ہوا؟ لہذا ہمارا چاہنا دیدار خداوندی میں ہمارے لئے بہت بڑا حجاب ہے کیونکہ ارادہ کا وجود،