قندیل ہدایت — Page 355
ربيع الاول 355 of 1460 HA۔اسقط الكسور من قال النيز و نصفيا كانه اعتماد على حديث في الاكليل اسنے کہ ٹرین کو ساتھ کیا اور جیسے باشعھد اور منہ پینے کی ہی تم سے السلام بہت پر عمل کیا ہو جو ا تحلیل میں کو وفيه كلام لم يكن نبي الاعاش نصف عمر الخيه الذى قبله وقد این کشکر ہے کوئی ہی نہیں گزرا ہے پر اپنے بھائی پہلے نبی کی آوامی عليه ور بیشک السلام خمسا وعشر نرسنة ومائة ومزقال احد او الشـ ایک سو پچیس برس سے کئے اور جینے اکسٹھ یا باسٹھ برس سمجھے ہیں فسك المتيقن كل ذلك انما نشأ من الاختلاف في مقامه بمكة بعد لیه السلام هم موں کو شک واقع مو ایقینی نہیں کرتا ہواور ہر ام اقوال کی ہی اختلاف پر بنی ہے کہ بہشت کے بعد مگر بین البعثة والله اعلم كذا في سيرة مغلطی ذکر وقت وفاته کتا ہے ملک کی امین ہے ذکر حضرات صلاح کی وفات کے وقت کا الانتيز بلا خلاف نصف النهارلا حضرت مسلم پیر کے دن طلا خلاف الربيع الأول سنة احل عشرة لانتى ربیع الاول حسین العبرة ضح في مثل الوقت الذى ی کی بارہوین تاریخ دیا است وقت چینه وقت درینہ میں داخل ہو رہے تھے دخل فيه وعن ابن عباس ولد صلى الله ايه ولم يوم الاثنيز واستني کہ واللصلى وفات پائی اور ابن عیاری سے روایت ہے کہ ہتا ہے کہ رسوال اللہ يوم الاثنين وخرج مهاجرام ہرے کے دان پیدا ہوئے اور پیر کے من مكة المدينة يوم لا تيز ودخل دن نبوت ہوئی اور پیر کے دن کمر سے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور بیہ کے دن شید میش کا المدينة يوم الا شيزور في الجرد يوم الاثير وقبض يوم الاثير وقبض داخل ہوے اور حجر اسود کو پیر کے دن اٹھانا اور پیر کے دن وفات پائی اور رسول ہیں اسو فى كساء ملت قال الوردة اخرجت لينا عايشة كساء شارجه پیوند دوخته مین مولی ابو مر د یا کہتا ہو عایشہ ہونے کو کیڑا پیوند لگا ہوا بليدا واسرار اغليظا فقالت قبض سول الله والله عليه وسلم وئی ازالہ نکال کر دکھائی پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونون پر رانی کارت وفي في الاكتفاء ولما توفى رسول الله مراديه ما يسلم وارتفعتا انتها ام به۔۔۔۔