قندیل ہدایت — Page 238
238 of 1460 مشكلة مترجم جلد اول القران فهو يقوم ۴۹۵ فضائل مشر آن عليه وسلم لاحد إلا على انني رجل انا والله حسد نہ کیا جائے گھر دو شخصوں پر ایک تو اس پر جس کو خدا نے قرآن عطا ATLANDA اللَّيْلِ وَانَاء النَّهَادِ فرما یاد مینی میں کو قرآن یاد ہو گیا ، نہیں وہ دن رات قرآن پڑھنا اور عبادت الا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ اناء اللیل کرتا ہے اور دوسرے اس پر جس کو فورا نے مال بخشا اور وہ اس میں سے دن رات ورجل اتاها رفقٌ عَلَيْهِ ) نیک کاموں پر خوب کرتا ہے۔(بخاری و مسلم ) ودا قرآن پڑھنے والے اور نہ پڑھنے والے کی مثال عَلَى یہ وا اناء النهار وَعَن ابی مُوسى قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صلى الله حضرت ابو موسی رضہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس مومن عَلَيهِ وَسلم م مثل المُؤْمِنِ الَّذِي يَفرَ القران مثل الو کا حال جو قرآن پڑھتا ہے تریخ کی مانند ہے کہ اس کی خوشبو عمدہ اور مزہ شیریں رجها كتب وطعمها ميب ومثل الو من الذى لا ہوتا ہے اور جو مومن قرآن نہیں پڑھتا اُس کا حال کھجور کی مانند ہو جس میں بقَرَءُ الْقَرانَ مَثَلُ الثَّمَرَةِ لَا رِيحَ لَهَا وَطُعُمُهَا حُلُو خوشبو نہیں لیکن مزہ شیریں ہے۔اور اس منافق کا حال جو قرآن نہیں پڑھتا وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِى لَا يَقْرَءُ الْفُرُات كمثل الحنظلة اندرائن کے مانند ہے کہ اُس میں خوشبو ہے اور مزہ بھی تلخ ہے۔اور اس منافق کیس لَهَارِ وَطُعْمُهَا مُدٌ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِی کا حال جو قرآن پڑھتا ہے خوشبو دار پھول کی مانند ہے کہ جو عمدہ ہے اور مزہ يقردُ القُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ رِيْهَا طَيب وطعمها تلخ۔(بخاری و مسلم) اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اس مومن کا حال من رُمتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ المُؤمِن الذي يفرح جو قرآن پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے تریخ کی مانند ہے اور اس مومن کا حال القرآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ كَا لا تُرجَةِ وَ الْمُؤْمِنُ الَّذِي لا جو قرآن نہیں پڑھتا اور اس پر عمل بھی نہیں کرتا ھور کی مانند ہے۔يَقْرَءُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ كَالثَّمَرَة - قرآن پڑھنے اور نہ پڑھنے والے کے درجہ کی بلندی اور پستی ٢٠١٣ وَعَن عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صلى حضرت عمر بن الخطابہ کہتے ہیں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلمنے فرمایا اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بهذا الكتبِ اقواما اللہ تعالے اس کتا کے ذریعہ ایک قوم کو بند کرتے ہیں تو دوسری قوم کو بست وَيَضَعُ بِهِ اخَرِينَ۔رواهُ مُسْلِمُ کرتے ہیں۔(مسلم) تران سننے کے لئے فرشتوں کا اشتیاق وارد جام وعن أبي سعيد الخدري أن أسيد بن حضرت ابو سعید خدری رنہ کہے ہیں کہ حضرت اسید بن حضیر نے بیان کیا حضَرِ قَالَ بَيْنَمَا هُوَ يَقْرَءُ مِنَ اللَّيْلِ سُورة ہے کہ میں رات کو سورہ بقرہ پڑھ رہا تھا اور میرا گھوڑا میرے پاس بندھا الْبَقَرَةِ وَفَرَسُهُ : ا مربوطةٌ عِندَ لا إِذْ جَالَتِ الفرسُ ہو ا تھا کہ یکایک میں نے دیکھا کہ گھوڑا اچھلنے کودنے اور شوخیاں کرتے فكت فسكنت فقرء فحالت فسكنت ثم فرد حالت لگا۔میں پڑھتے پڑھتے خاموش ہوگیا کہ گھوڑا بھی گھر گیا۔میں نے پھر ڑھنا الْفَرَسُ فَانصَرَت وَمَا أَنه يَحْيَى قَرِيبًا منها ما شفت شروع کیا۔گھوڑا پھر شوخیاں کرنے لگا۔میں خاموش ہو گیا اور گھوڑ ابھی مِّنْهَا ان يُصِيبَهُ وَلَمَّا أَخَرَهُ رَفع رأسه إلى السماء ٹھہر گیا۔میں نے پھر پڑھنا شروع کیا گھوڑا پھر اسی طرح اچھلنے کودنے رَأسَهُ فَإِذَا مِثْلُ الظَّلَةِ فِيهَا أَمَثَالُ الْمَصابيح فَلَنا لگا۔آخر میں نے پڑھنا بند کر دیا۔میرا بیٹا کیئے گھوڑے کے قریب سو رہا تھا صبح حَدَّثَ النَّبِيَّ صَلَّى الله علیه وسلم فقال مجھ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں گھوڑا اس کو کوئی اذیت نہ پہنچائے۔پس میں اپنے۔افرد يا بن حضير اقرع بابن حميد قال بیٹے کو وہاں سے اٹھانے کے لئے آگے بڑھا کہ میری نظر آسمان پر پڑی میںسے فَاشْفَقْتُ يَا رَسُوا الله أن تطأ يحيى وكان دیکھا کہ ہر سا چھایا ہوا ہے اور اس کے اندر چراغ سے قبل رہے ہیں۔جب مِنْهَا قَرِيبًا فَانْفَرَ ثُتُ إِلَيْهِ وَرَفعت راسی صبح ہوئی تو میں نے اس واقعہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔اپنے