قندیل ہدایت — Page 217
217 of 1460 ۶۱ تلک الرسل تفسير سورة آل عمران تلوار میں تھیں حضرت عیسی کو یہ حال معلوم ہو گیا تھا کہ ان سے کچھ ایک شخص مفسد شمعون قرینی کو حضرت معینی کی صورت مقابلہ نہ ہوگا۔الغرض شباشب بیہود حضرت مسیح کو گرفتار کر کے میں کر دیا لوگوں نے اسی کو عیسی سمجھے کہ اس پر صلیب دھوکہ ان کے منہ پر طمانچے مارتے اور بھٹھا کرتے ہوئے شہر میں لائے شہر کے باہر لے گئے اور سولی دی۔اور حضرت عیسی کو ملا سکہ صبح کو تمام یہود جمع ہوئے اور ان سے پوچھا کہ اگر تو وہ سچ ہو آسمان پر اٹھا کر لے گئے۔عیسائی کھتے ہیں بلکہ خود حضرت تو ہم سے کہہ نے احسن طرح اہل اسلام امام مہدی کے میسج کو صلیب پر کھینچا اور انہوں نے پہنچ پہنچ کر جان دی۔منتظر ہیں اسی طرح یہود میں مسیح کا انتظار تھا بلکہ اب بھی اور پھر ایک شخص یوسف نامی پلاطوس سے حضرت کی ہے کہ وہ ان کو پھر بادشاہت دے گا) آپ نے فرمایا لاش مانگ کرلے گیا اور اس نے قبر میں دفنایا اور اوپر پتھر کی اگر میں کہوں بھی تو تم کب یقین کرو گے۔آخر الامر سب چٹان دھر دی یہ جمعہ کی شام کا واقعہ تھا اتو اتوار کو حضرت مسیح لوگ ان کو پلا طوس حاکم کے پاس لے گئے کہ یہ لوگوں کو زندہ ہو کر لوگوں کو دکھائی دیے اور آسمان پر چڑھ گئے اور قیصر کے محصول دینے سے منع کرتا اور اپنے آپ کو میسج پھر آنے کا وعدہ کر گئے اس واقعہ کے وقت ان کی عمر ۳۳ بادشاہ کہتا ہے۔حضرت نے انکار کیا۔اس نے کہا میرے برس کی تھی۔احادیث صحیحہ سے بھی قرب قیامت میں عیسی نزدیک اس کا کوئی جرم مستوجب قتل نہیں پلا طوس علیہ السلام کا آنا ثابت ہوتا ہے۔اس مسئلہ کی ہم بھی تحقیق کی تم نے حضرت عیسی کو اسی حالت میں ہیرودیس کے پاس کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔کہ حق کس کی جانب ہے۔اور یتحقیق بھیج دیا اُس نے پھر اسی کے پاس بھیجا اور چھوڑ نا چاہا تو ان چندا بکات کے ضمن میں آتی ہے۔یہود نے غل مچا دیا کہ ایسا نہ کرنا تب اس نے کہا کہ تمنا ہے (1) اذ قال اللہ یعینی انی متوفیک الخ توفی کے معنی کھنے سے میں اس کو سولی دیتا ہوں مگر اس کا گناہ تم پر اور لغت میں کسی چیز کا پورا کہ دنیا ہے اور چونکہ مردہ اپنی حیات تمہاری اولاد پر۔یہود نے کہا منظور ہے حضرت کے حواری کا پورا حصہ پالیتا ہے اس لیے اس کو بھی متوفی کھتے ہیں۔سب بھاگ گئے اس وقت حضرت پر ایک عجیب حالت اور انھیں اعتبارات سے اس کے معنی قبض کرنے کے بھی طاری تھی جس میں خدا نے حضرت مسیح سے خطاب کر کے یہ جملے آتے ہیں اور کبھی متوفی معنی مستوفی بھی آتا ہے۔اگر یہاں فرماتے جو ان آیات میں مذکور ہیں کہ اے عیسی کچھ غم نہ کرو اس سے مراد موت کی جاوے تو پھر اس آیت میں روما میں تم کو آسمان کی طرف اٹھالیتا ہوں اور جو کچھ یہ لوگ قتلوہ و ما صلبوه ولكن شبہ ہم نہ انہوں نے عیسی کو قتل کیا نہ بہتان لگاتے ہیں کہ تو نے خدائی کا دعوی کیا اور خدا کا بیٹا سولی دی بلکہ ان پر اشتباہ پڑ گیا، بظاہر اختلاف سا معلوم بناد انجیل لوقا با ہے ور) اس سے میں نبی اخیر کی معرفت ہوتا ہے چنانچہ بعض پادریوں نے یہ اعتراض بھی کیا ہے تم کو پاک کردوں گا ، جیسا کہ انجیل برنباس سے ثابت (ہدایت المسلمین ص۳۵۵) اس کا جواب بہت سہل ہے ہے۔اور اب جو مخالفین کی جماعت تم کو غالب دکھائی (1) یوں کہ یہاں متوفی معنی مستوفی ہے جس کے معنی یہ ہوئے دیتی ہے میں ان کو قیامت تک تمہار سے ماننے والوں کہ میں تیری اجل کو پورا کروں گا کہ تجھ کو ان کے قتل سے کے ماتحت کر دوں گا۔یہ دنیا کی سزا ہے اور آخر تو شخص بچا کر آسمان پر چڑھالوں گا پھر تو اپنے وقت مصود پر ہماری طرف رجوع کرتا ہے ہم نیکوں کو پورا بدلہ نیک بیگے مرے گا (بیضاوی ) اب دونوں آیتوں میں کچھ بھی اختلاف اور بدوں کو سخت عذاب دیں گے۔آخر کا ر خدا نے نہیں (۲) ہوں کہ اس کے معنی قبض کے ہیں جس سے