قندیل ہدایت — Page 142
142 of 1460 حقاقی سورة نستار ۲۴ ٢٢٢ برة لا يجب ان ممکن ہے کہ غلف کی جمع ہو جس کے معنے غلاف میں لپٹا ہوا کیونکہ (۶) و قولہم انا قتلنا المسیح عیسی ابن مریم رسول الله، یهود خصوصا مدینہ طیبہ کے یہود یہ بھی کہتے تھے کہ ہمارے دلوں پر حضرت عیسی علیہ السّلام کو رسول اللہ نہ جانتے تھے مگر پھر غلاف پڑے ہوتے ہیں ہم اے محمد ! آپؐ کی اس نصیحت کو رسول اللہ کہنا بطور تمسخر کے تھا جیسا کہ مکہ کے کفار آنحضرت ہرگز دل میں جگہ نہ دیں گے۔اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ علیہ السلام کو مسخر سے کہتے تھے یا ایہا الذی نزل علیہ فرماتا ہے بل طبع الله علیها بكفر ہم فلا يؤمنون الأ قليلاً الذكر انك لمجنون۔اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ حضرت مسیح کہ ان کے دل پر یہ غلاف ولاف کچھ نہیں صرف ان کے کفر علیہ السلام کو اور اُن کی والدہ ماجدہ کو بُرے الفاظ سے تعبیر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے کیا کرتے تھے ، ساحہ بین الساحرة فاعل بن الفاعلة کہتے تھے جس کی وجہ سے ان میں ایمان نہیں جا سکتا مگر وہ قد تقلیل اس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ نے رسول اللہ کا وصف ذکر کہ جس کو وہ اپنے ادعا کے بموجب ایمان کہتے ہیں یا قلت کیا ، یہ بھی ان کا سخت گناہ اور ان کی نسل در نسل بربادی باعتبار قلت افراد اہل ایمان کے ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اور خرابی کا باعث تھا۔وہ بڑے تفاخرہ سے کہا کرتے تھے کہ ہم نے ان میں چونکہ کمتر لوگ ایمان لاتے ہیں اس لئے اس قوم میں عیسی مسیح کو قتل کر ڈالا جس کا رو خدا تعالئے اس جملہ میں کم ایمان پایا جاتا ہے اور یہ کمی اسی شامت سے ہے۔کرتا ہے و ماقتلوه و ما صلبوه ولكن شبیه اہم کہ انھوں نے (ه) و جعفر هم و قولہم علئے مریم بہتانا میلہ نالائق فعل ان سے نہ ان کو قتل کیا نہ سولی دی بلکہ اشتباہ واقع ہوا پھر اس حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت کے وقت صادر ہوا تھا۔اشتباہ کی اس آیت میں خود توضیح فرماتا ہے وان الذین وہ یہ کہ حضرت مسیح علیہ السلام چونکہ بغیر باپ کے صرف اس اختلفوا فیہ لفی شک منہ مالهم به من علم الا اتباع الظن که کی قدرت کا ملہ سے پیدا ہوتے تھے وہ اس کے منکر ہو گئے جو اس بارہ میں اختلاف کر رہے ہیں خود ان کو یقین نہیں و بحفر ہم سے اسی طرف اشارہ ہے۔سو انھوں نے اس قدرت بلکہ معنی باتیں کرتے ہیں۔ان الذین اختلفوا سے مراد عیسائی کاملہ کا انکار کیا اور حضرت مریم پاک دامن پر زنا کی تہمت ہیں ان کے متقدمین میں اکثر تین فریق تھے۔نسطوریہ، مکانی لگائی کہ اس نے یہ حرامی بچہ جنا ہے اور اخیر تک اسی لئے یعقوبیہ - اول فریق کا گمان یہ تھا کہ کہ مسیح کو صلیب جسم کے یہود حضرت مسیح علیہ السلام کو یہ نظر حقارت دیکھتے رہے۔طور پر ہوتی ہے کہ روح کے طور پر اور یہ بات قرین قیاس بھی بعض یہود کا یہ بھی گمان تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام یوسف ہو سکتی ہے کس لئے کہ جس قدر مار پیٹ قتل و ضرب کی سنجار کے نطفہ سے پیدا ہوتے ہیں جن کی تعلیم سے آج کل تیری تکلیفات ہیں صرف جسم عنصری پر واقع ہوتی ہیں روح کو بھی یہی کہتے ہیں اور قرآن مجید کی بے جا تاویلیں کرتے ہیں نہ کوئی قتل کر سکتا ہے نہ مار سکتا ہے نہ دار پر کھینچ سکتا ہے سکندری گمر انجیل کی کیا تاویل کریں گے کہ جہاں روح القدس سے کے اسقف آریوس کا بھی اس کے قریب قریب عقیدہ تھا حالمہ پائے جانے کی تفریق کی ہے گرچہ کسی پاکدامن عورت جس کی وجہ سے عیسائیوں میں بڑا اختلاف پڑا او قسطنطین کو زنا کی طرف منسوب کرنا بہتان ہے مگر انھوں نے اس زنا شاہ روم کو مجلس قائم کرنی پڑی جیسا کہ انگریزی رو من اُرد کو ایک بڑے پاکدامن شخص معینی ذکریا علیہ السلام کی طرف عربی تواریخ کليسيه خصوصا الدرة النفيسه في تاريخ كليسه نسوب کیا جیسا کہ عموما یہود کا گمان یہ تھا بہتان عظیم ہے مطبوعہ بیروت سے واضح ہوتا ہے اور آریوس الوہیت مسیح اس لئے کہستان کے بعد لفظ عظیم آیا۔کا بھی منکر تھا۔دوسرا فرقہ صرف شیر سے صلیب پا تا بیان