قندیل ہدایت — Page 1352
1352 of 1460 933 یوناه ۷:۲ 14 ۹۳۳ یوناہ خدا کے حضور سے بھاگتا ہے لوگوں کو ہلاک نہ کر۔ایک معصوم کی موت کی ذمہ داری ہمارے خداوند کا کلام امتی کے بیٹے یوناہ پر نازل ہوا۔اوپر نہ لگا کیونکہ اے خداوند، تجھے جو پسند آیا تو نے کیا۔۱۵ تب کہ تُو بڑے شہر نیوہ کو جا اور اس کے خلاف منادی کر اُنہوں نے یو ناہ کو اُٹھا کر سمندر میں پھینک دیا اور سمندر کی لہریں تھم کیونکہ اس کی بدی میرے حضور تک آ پہنچی ہے۔گئیں۔اس بات سے وہ لوگ بہت ڈر گئے اور اُنہوں نے خدا لیکن یوناہ خدا کے حضور سے ترسیس کی طرف بھاگا اور یافا کے حضور میں قربانی گذرانی اور عہد کیے۔پہنچا۔وہاں ترسیس کو جانے والا جہاز ملا۔وہ کرایہ دے کر اس میں ے الیکن خدا نے یوناہ کو نگل جانے کے لیے ایک بڑی مچھلی تیار کر رکھ تھی اور یو ناہ تین دن رات مچھلی کے پیٹ میں رہا۔سوار ہوا تا کہ ترسیس کو جائے۔تب خداوند نے سمندر پر ایسی آندھی بھیجی کہ جہاز کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔سارے ملاح خوفزدہ ہو گئے اور ہر ایک اپنے اپنے دیوتا کو پکارنے لگا اور جہاز کو ہلکا کرنے کی غرض سے اپنا مال و اسباب سمندر میں پھینک دیا۔٢ یوناہ کی دعا یوناہ نبی نے مچھلی کے پیٹ کے اندر خداوند اپنے خدا سے دعا کی اس نے کہا کہ میں نے پاتال کی گہرائی سے مدد کے لیے پکارا، لیکن یوناہ جہاز کے اندر پڑا سو رہا تھا۔جہاز کے کپتان اپنی مصیبت کے دوران میں نے خدا کو پکارا، نے اس کے پاس جا کر کہا: تو کیسے سوسکتا ہے؟ اُٹھ اور اپنے خدا کو اور اس نے مجھے جواب دیا۔پکار۔شاید وہ ہماری سُنے اور ہم ہلاک نہ ہوں۔کتب ملاحوں نے آپس میں کہا، آؤ ہم قرعہ ڈالیں اور اور تو نے میری فریاد سنی۔معلوم کریں کہ اس آفت کے لیے کون ذمہ دار ہے۔انہوں نے ۳ متو نے مجھے سمندر کی گہرائی کے بیچ میں پھینک دیا اور لہروں نے مجھے گھیر لیا؛ قرعہ ڈالا اور قریہ کے ناہ کے نام پر نکلا۔انہوں نے اس سے کہا کہ ہمیں بتا کہ اس ساری آفت تیری تمام موجیں اور لہریں کے لیے کون ذمہ دار ہے؟ تو کیا کرتا ہے؟ تو کہاں سے آیا ہے؟ میرے اوپر سے گزر گئیں۔تیرا وطن کہاں ہے اور تو کس قوم کا ہے؟ میں نے کہا کہ میں اس نے جواب دیا : میں ایک عبرانی ہوں اور خداوند خدا کی تیری نگاہوں سے دُور ہو گیا ہوں ؛ عبادت کرتاہوں جس نے زمین اور سمندر بنائے۔لیکن میں پھر ۱۰ اس بات سے وہ ڈر گئے اور اس سے پوچھا کہ تُو نے کیا تیری مقدس ہیکل کی طرف دیکھوں گا۔کیا ہے؟ ( وہ جانتے تھے کہ وہ خدا کے حضور سے بھاگ رہا ہے ۵ بیتناک پانی نے مجھے خوفزدہ کر دیا، گہرائی میرے چاروں طرف تھی ؟ کیونکہ اس نے خود انہیں بتایا تھا۔) اسمندر میں طوفان بڑھتا جا رہا تھا اس لیے اُنہوں نے کہا سمندر کی نباتات میرے سر کے چاروں طرف لپٹ گئی۔کہ ہم تیرے ساتھ کیا کریں تا کہ سمندر ہمارے لیے ساکن ہو جائے؟ میں پہاڑوں کی تہہ تک ڈوب گیا تھا؟ ۱۲ اس نے جواب دیا کہ مجھ کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دوتو میرے نیچے کی زمین کے بندھنوں نے مجھے گھیر لیا تھا۔سمندر ساکن ہو جائے گا۔میں جانتا ہوں کہ یہ بڑا طوفان میری لیکن تو نے اے میرے خداوند خدا، غلطی کے باعث تمہارے اوپر آیا ہے۔میری جان کو پاتال سے باہر نکالا۔۱۳ پھر بھی ملاح اپنی پوری کوشش سے کنارے کی طرف کھینے لگے لیکن وہ ایسا نہ کر سکے کیونکہ سمندر پہلے سے بھی زیادہ جب میری زندگی بیقرار تھی، ۱۴ موجزن ہوتا جا رہا تھا۔وہ خدا کے حضور تو اے خدا میں نے تجھے یاد کیا، میں گڑ گڑائے ، اے خداوند، اس شخص کی جان لینے کے لیے ہم اور میری دعا تیری مقدس ہیکل میں