قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 1337 of 1460

قندیل ہدایت — Page 1337

۱۰۹۴ 1337 of 1460 1094 نے اُسے نہیں پہچانا کہ وہ یسوع ہے۔آیا؟ اُس نے جواب دیا : ہاں خداوند! تو تو جانتا ہی ہے کہ میں تجھے یسوع نے اُنہیں آواز دے کر کہا: دوستو! کیا کچھ ہاتھ سے محبت رکھتا ہوں۔یسوع نے کہا: تو پھر میری بھیڑوں کی گلہ بانی کر۔ا اُس نے تیسری بار پھر پوچھا: شمعون یوحنا کے بیٹے ! اُنہوں نے جواب دیا: نہیں ! یسوع نے کہا : جال کو کشتی کی دائیں طرف ڈالو تو ضرور پکڑ کیا تو مجھ سے محبت رکھتا ہے؟ ۹ سکو گے۔چنانچہ اُنہوں نے ایسا ہی کیا اور مچھلیوں کی کثرت کی وجہ پطرس کو رنج پہنچا کیونکہ یسوع نے اُس سے تین دفعہ پوچھا سے جال اس قدر بھاری ہو گیا کہ وہ اُسے بھینچ نہ سکے۔تھا کہ کیا تو مجھ سے محبت رکھتا ہے؟ اُس نے کہا: خداوند! تو تو تب یسوع کے چہیتے شاگرد نے پطرس سے کہا: یہ تو سب کچھ جانتا ہے تجھے خُوب معلوم ہے کہ میں تجھ سے محبت رکھتا خداوند ہے۔جیسے ہی شمعون پطرس نے یہ سُنا کہ یہ تو خداوند ہے ہوں۔اُس نے اپنا گرتا پہنا جسے اُس نے اُتار رکھا تھا اور پانی میں کود یسوع نے کہا: تو میری بھیڑیں چرا۔۱۸ میں تجھ سے سچ سچ پڑا۔دوسرے شاگرد جو کشتی میں تھے جال کو جو مچھلیوں سے بھرا کہتا ہوں کہ جب تو جوان تھا تو جہاں تیرا جی چاہتا تھا اپنی کمر باندھ ہوا تھا کھینچتے ہوئے لائے کیونکہ وہ کنارے سے پچاس گز سے زیادہ کر چل دیتا تھا۔لیکن جب تو بوڑھا ہو جائے گا تو اپنے ہاتھ مدد کے دُور نہ تھے۔جب وہ کنارے پر اترے تو دیکھا کہ کوئلوں کی آگ لیے بڑھائے گا اور کوئی دوسرا تیری کمر باندھ کر جہاں تو جانا بھی نہ پر مچھلی رکھتی ہے اور پاس ہی روٹی بھی ہے۔چاہے گا تجھے وہاں اُٹھا لے جائے گا۔9 ا یسوع نے یہ بات کہہ کر ا یسوع نے اُن سے کہا جو مچھلیاں تم نے ابھی پکڑی ہیں اشارہ کر دیا کہ پطرس کس قسم کی موت مر کے خدا کا جلال ظاہر کرے اُن میں سے کچھ یہاں لے آؤ۔گا۔تب یسوع نے پطرس سے کہا: میرے پیچھے ہولے۔شمعون پطرس کشتی پر چڑھ گیا اور جال کو کنارے پر کھینچ ۲۰ پطرس نے مڑ کر دیکھا کہ یسوع کا چہیتا شاگرد اُن کے لایا جو ایک سو ترپن بڑی بڑی مچھلیوں سے بھرا ہوا تھا، پھر بھی وہ پھٹا پیچھے پیچھے چلا آرہا ہے۔یہی وہ شاگرد تھا جس نے شام کے کھانے نہیں۔۱۲ یسوع نے اُن سے کہا: آؤ، کچھ کھا لو ! شاگردوں میں کے وقت یسوع کی طرف جھک کر پوچھا تھا کہ اے خدا وند ! وہ کون سے کسی کو بھی جرات نہ ہوئی کہ پوچھے کہ تو کون ہے؟ وہ جانتے ہے جو تجھے پکڑوائے گا ؟ ۲۱ پطرس نے اُسے دیکھ کر یسوع سے تھے کہ وہ خداوند ہی ہے۔ایسوع نے آکر روٹی لی اور انہیں دی پوچھا: اے خداوند! اس شاگرد کا کیا ہوگا؟ اور مچھلی بھی دی۔۱۴ یسوع مُردوں میں سے زندہ ہو جانے کے بعد ۲۲ یسوع نے جواب دیا: اگر میں چاہوں کہ یہ میری واپسی تیسری بار اپنے شاگردوں پر ظاہر ہوا۔تک زندہ رہے تو اس سے تجھے کیا؟ تو میرے پیچھے پیچھے چلا آ۔پطرس کا مامور کیا جانا یوں بھائیوں میں یہ بات پھیل گئی کہ یہ شاگرد نہیں مرے گا ۱۵ جب وہ کھانا کھا چکے تو یسوع نے شمعون پطرس سے لیکن یسوع نے یہ نہیں کہا تھا کہ وہ نہ مرے گا بلکہ یہ کہا تھا کہ اگر میں کہا: شمعون ، یوحنا کے بیٹے ! کیا تو مجھ سے ان سب سے زیادہ چاہوں کہ وہ میرے واپس آنے تک زندہ رہے تو اس سے تجھے کیا؟ محبت رکھتا ہے؟ اُس نے کہا: ہاں خداوند ، تو تو جانتا ہی ہے کہ میں ۲۴ یہی وہ شاگر د ہے جو ان باتوں کی گواہی دیتا ہے اور جس نے انہیں تحریر کیا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ اُس کی گواہی سچی ہے۔۲۳ ۲۵ یسوع نے اور بھی بہت سے کام کیے۔اگر ہر ایک کے تجھ سے محبت رکھتا ہوں۔یسوع نے اُس سے کہا: میرے بڑوں کو چارہ دے۔ا یسوع نے پھر کہا : شمعون یوحنا کے بیٹے ! کیا تو واقعی مجھے بارے میں تحریر کیا جاتا تو میں سمجھتا ہوں کہ جو کتابیں وجود میں آتیں سے محبت رکھتا ہے؟ اُن کے لیے دنیا میں گنجایش نہ ہوتی۔