قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 1322 of 1460

قندیل ہدایت — Page 1322

۱۰۲۷ 1322 of 1460 ۴۴:۱۵ مرقس 1027 ۱۲ پیلاطس نے لوگوں سے دوسری بار پوچھا: پھر میں اس ساتھ شمار کیا گیا۔۲۹ وہاں سے گزرنے والے سب لوگ سر ہلا ہلا کے ساتھ کیا کروں جسے تم یہودیوں کا بادشاہ کہتے ہو؟ ۱۳ وہ پھر چلائے کہ اُسے صلیب دے۔کر یسوع کو لعن طعن کرتے تھے اور کہتے تھے : واہ، تو تو ہیکل کو ڈھا کر تین دن میں اُسے پھر سے بنانے کا دعویٰ کرتا تھا، اب ۱۴ پیلاطس نے اُن سے پوچھا : آخر کیوں؟ اُس نے کون صلیب سے اتر آ اور اپنے آپ کو بچا۔سا جرم کیا ہے؟ ا اسی طرح سردار کا بہن اور شریعت کے عالم مل کر آپس لیکن وہ زور زور سے چلانے لگے کہ اُسے صلیب پر چڑھا دے۔میں یسوع کی جنسی اُڑاتے تھے اور کہتے تھے: اس نے اوروں کو بچایا ۱۵ پیلاطس نے ہجوم کو خوش کرنے کی غرض سے اُن کی خاطر لیکن یہ اپنے آپ کو نہیں بچا سکتا۔۳۲ اسرائیل کا بادشاہ مسیح اب براتا کورہا کردیا اور یسوع کو کوڑے لگوا کر ان کے حوالہ کر دیا تا کہ وہ صلیب پر سے اتر آئے تا کہ یہ دیکھ کر ہم ایمان لاسکیں۔دوڈا کو بھی صلیب پر چڑھایا جائے۔جو یسوع کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے اُسے بُرا بھلا کہتے تھے۔19 سپاہی یسوع کی ہنسی اُڑاتے ہیں ۳۳ یسوع کی موت تب سپاہی یسوع کو شاہی قلعہ کے اندرونی صحن میں لے بارہ بجے سے لے کر تین بجے تک اُس سارے علاقہ گئے اور فوجی دستہ کے سارے سپاہیوں کو وہاں جمع کر لیا۔تب میں اندھیرا چھایا رہا۔۳۴ تین بجے یسوع بڑی اونچی آواز سے اُنہوں نے یسوع کو ایک ارغوانی چوغہ پہنایا اور کانٹوں کا تاج بنا چلایا: ”ایلی، ایلی ،لما شبقتنی ، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے میرے کر اُس کے سر پر رکھ دیا۔اس کے بعد وہ سلام کر کر کے اُسے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ ۳۵ جو لوگ کہنے لگے کہ آئے یہودیوں کے بادشاہ! ہم آداب بجا لاتے ہیں۔پاس کھڑے تھے ان میں سے بعض نے یہ سنا تو کہنے لگے ہٹو ا یہ ساتھ ہی وہ یسوع کے سر پر سرکنڈا مارتے تھے، اُس پر تھوکتے تھے ایلیاہ کو بلا رہا ہے۔اور گھٹنے ٹیک ٹیک کر اُسے سجدہ کرتے تھے۔۲۰ جب سپاہی یسوع ۳۶ تب ایک آدمی دوڑ کر گیا اور اسفنج کو سرکہ میں ڈبو کر لایا کی بنسی اُڑا چکے تو انہوں نے وہ ارغوانی چوغہ اُتار کر اس کے اپنے اور اُسے ایک سرکنڈے پر رکھ کر یسوع کو چھسایا اور کہنے لگا: ذرا کپڑے اُسے پہنا دیئے اور صلیب دینے کو باہر لے گئے۔ٹھہرو، دیکھیں کہ ایلیاہ اُسے صلیب پر سے اُتار نے آتا ہے یا نہیں! یسوع کا صلیب پر چڑھایا جانا ۳۷ لیکن یسوع نے بڑے زور سے چلا کر جان دے دی۔۲۱ راستے میں اُنہوں نے شمعون کو جو گرین کا رہنے والا تھا ۳۸ اور ہیکل کا پردہ اوپر سے نیچے تک پھٹ کر دو ٹکڑے ہو اور اسکندر اور روس کا باپ تھا اور گاؤں سے برہ تعلیم کی طرف آرہا گیا۔9 رومی فوج کا ایک افسر جو یسوع کے سامنے کھڑا تھا، یہ تھا، بیگار میں پکڑ لیا تا کہ وہ یسوع کی صلیب اُٹھا کر لے چلے۔دیکھ کر کہ یسوع نے کس طرح جان دی ہے، پکار اُٹھا: یہ شخص ۲۲ تب وہ یسوع کو اُس مقام پر لائے جسے گلگتا یعنی کھوپڑی کی در حقیقت خدا کا بیٹا تھا۔جگہ کہتے ہیں۔۳ وہاں اُنہوں نے یسوع کو ایسی کے پلانے کی ۲۰ کئی عورتیں دُور سے یہ سب کچھ دیکھ رہی تھیں۔اُن میں کوشش کی جس میں ملی ہو ئی تھی لیکن اُس نے اُسے پینے سے مریم مگر لینی ، چھوٹے یعقوب اور یوسیس کی ماں مریم اور سلومی انکار کر دیا۔۲۴ تب اُنہوں نے یسوع کو صلیب پر چڑھا دیا اور تھیں۔جب یسوع گلیل میں تھا تو یہ عورتیں اس کی شاگردی گرعہ ڈال کر اس کے کپڑوں کو آپس میں بانٹ لیا اور جو جس کے میں رہ کر اس کی خدمت کرتی تھیں اور کئی وہ تھیں جو اس کے ساتھ اس سیر و لیم آئی تھیں۔حصہ میں آیا لے لیا۔۴۱ ۲۵ جب اُنہوں نے یسوع کو صلیب پر چڑھایا تھا تو صبح کے یسوع کا دفن کیا جانا کو بج رہے تھے ۲۶ اور اُنہوں نے اُس کا الزام ایک سختی پر لکھ ۴۲ چونکہ شام ہوگئی تھی اور وہ سبت سے پہلا یعینی تیاری کا کر اس کے سر کے اوپر کی جگہ پر لگا دیا کہ یہ یہودیوں کا دن تھا۔۴۳ ریتیا کا رہنے والا ایک شخص جس کا نام یوسف تھا آیا۔بادشاہ“ ہے۔۲۷ انہوں نے دوڈا کو ؤں کو بھی اُس کے ساتھ وہ عدالت عالیہ کا ایک معزز رکن تھا اور خود بھی خدا کی بادشاہی کا مصلوب کیا، ایک کو اُس کی دائیں طرف اور دوسرے کو بائیں طرف۔منتظر تھا۔وہ جرات کر کے پیلاطس کے حضور پہنچا اور یسوع کی (۲۸ اس طرح پاک کلام کا یہ نوشتہ پورا ہوا کہ وہ بدکاروں کے لاش مانگنے لگا۔"" جب پیلاطس کو معلوم ہوا کہ یسوع مر چکا ہے