قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 1314 of 1460

قندیل ہدایت — Page 1314

1314 of 1460 973 ۱۷ ہوگئی کہ متی ۳:۴ ۵ ۹۷۳ اُسے بہت محصہ آیا۔اُس نے بیت کم اور اُس کی سب سرحدوں چڑے کا پٹکا باندھے رہتا تھا اور اس کی خوراک ٹڑیوں اور جنگلی شہد کے اندر سپاہی بھیج کر تمام لڑکوں کو جو دو سال یا اس سے کم عمر کے پر مشتمل تھی۔یروشلیم ، یہودیہ اور مردن کے سارے علاقوں سے تھے، قتل کروا دیا۔اس نے ( دو سال کے ) اس وقت کا حساب لوگ نکل کر یو دتا کے پاس جاتے تھے۔اور جب وہ اپنے گناہوں اُس صحیح اطلاع کی بنیاد پر لگایا تھا جو وہ مجوسیوں سے حاصل کر چکا کا اقرار کرتے تھے تو یو حتا انہیں دریائے پر دن میں بپتسمہ دیتا تھا۔تھا۔اس طرح جو بات سر میاہ نبی کی معرفت کہی گئی تھی پوری ے لیکن جب اُس نے دیکھا کہ بہت سے فریسی اور صدوقی بپتسمہ لینے کی غرض سے اُس کے پاس آرہے ہیں تو اُن سے کہا: چشم سانپوں کی اولا د ہو، تمہیں کس نے آگاہ کر دیا کہ آنے والے غضب سے بچ کر بھاگ نکلو۔اپنی تو بہ کے لائق پھل بھی لاؤ۔اور اس گمان میں نہ رہو کہ تم ابر ہام کی اولاد ہو۔کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا ان پتھروں سے ابرہام کے لیے اولاد پیدا کر سکتا ہے۔۱۰ اب درختوں کی جڑ پر کلہاڑا رکھ دیا گیا ہے لہذا جو درخت اچھا پھل نہیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں جھونکا جاتا ہے۔۱۸ رامہ شہر میں ایک آواز سُنائی دی، چیخنے چلانے اور بڑے ماتم کی آواز، راخل اپنے بچوں کے لیے رورہی ہے اور تسلی نہیں پاتی ، کیونکہ وہ مرچکے ہیں۔مصر سے واپس آنا میں تو تمہیں تو بہ کے لیے پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں لیکن جو میرے بعد آنے والا ہے وہ مجھ سے زیادہ طاقتور ہے۔میں تو اُس ۱۹ ہیرودیس کی موت کے بعد خداوند کا پاک فرشتہ مصر میں کی جوتیاں بھی اُٹھانے کے لائق نہیں ہوں۔وہ تمہیں پاک رُوح یوسف کو خواب میں دکھائی دیا اور کہنے لگا : ۲۰ اُٹھ انچے اور اُس کی اور آگ سے بپتسمہ دے گا۔اس کا چھاج اُس کے ہاتھ میں ہے ماں کو لے کر اسرائیل کے ملک میں چلا جا کیونکہ جولوگ بچے کو جان اور وہ اناج کو خوب پھٹکے گا۔وہ گیہوں کو تو اپنے کھتے میں جمع کرے وہ سے مارڈالنا چاہتے تھے وہ مر چکے ہیں۔گالیکن بھوسے کو اُس آگ میں جھونک دے گا جو کبھی نہ بجھے گی۔۲۱ خداوند یسوع کا بپتسمہ لہذا وہ اُٹھا اور بچے اور اُس کی ماں کو لے کر اسرائیل کے ملک میں آگیا۔۲۲ مگر یہ سُن کر کہ ارخلاؤس اپنے باپ اس وقت یسوع گلیل سے دریائے پر دن کے کنارے کی سے ہیر دیس کی جگہ یہودیہ کا بادشاہ بن چکا ہے وہاں جانے سے ڈرا اور پہنچا تا کہ یوحنا سے بپتسمہ لے۔۴ لیکن یوحنا نے اُسے منع کرتے خواب میں آگاہی پا کر کھیل کے علاقہ کو روانہ ہو گیا۔۲۳ اور وہاں ہوئے کہا کہ تجھ سے بپتسمہ لینے کا محتاج تو میں ہوں اور تو میرے پہنچ کر نا صرت نام شہر میں رہنے لگا تا کہ جو بات نبیوں کی معرفت پاس آیا ہے؟ کہی گئی تھی وہ پوری ہو کہ وہ ناصری کہلائے گا۔۱۵ مگر یسوع نے جواب دیا: ابھی تو تو ایسا ہی ہونے دے یوحنا بپتسمہ دینے والے کی منادی کیونکہ مناسب تو یہی ہے کہ ہم ساری راستبازی کو اسی طرح پورا اُن دنوں یو حتا بپتسمہ دینے والا آیا اور یہودیہ کے کریں۔تب یوحنا راضی ہو گیا۔بیابان میں جا کر یہ منادی کرنے لگا کہ " تو بہ کرو یسوع بپتسمہ لینے کے بعد جوں ہی پانی سے باہر نکلا تو کیونکہ آسمان کی بادشاہی جلد ہی قائم ہونے والی ہے۔یہ یودتا آسمان کھل گیا اور اُس نے خدا کے روح کوکبوتر کی مانند اپنے اوپر وہی ہے جس کے بارے میں یسعیاہ نبی کی معرفت یوں کہا گیا تھا: اُترتے دیکھا۔ساتھ ہی آسمان سے یہ آواز سُنائی دی کہ یہ میرا بیابان میں پکارنے والے کی آواز آرہی ہے کہ خداوند کے لیے راستہ تیار کرو، اُس کی راہوں کو سیدھا کرو۔۱۷ پیارا بیٹا ہے جس سے میں بہت خوش ہوں۔خداوند یسوع کی آزمایش اُس کے بعد یسوع روح کی ہدایت سے بیابان میں گیا تا کہ اہلیس اُسے آزمائے۔۲ چالیس دن اور چالیس رات روزے رکھنے کے بعد یسوع کو بھوک لگی، ۳ تب یوجنا اونٹ کے بالوں کا لباس پہنتا تھا اور اپنی کمر کے گرد آزمائیش کرنے والے نے اُس کے پاس آکر کہا: اگر تو خدا کا بیٹا