قندیل ہدایت — Page 1272
1272 of 1460 باغیوں نے چھا یاد و در سال پر ہنگامہ تندر جہاد ہو سکتا تھا ہاں البتہ چند بد ذاتوں نے دنیا کی طبع اور اپنی منفعت اور اپنے خیالات پورا کرنے کو اور جاہلوں کے ہر کھانے کو اور اپنے ساتھ جمعیت جمع کرنے کو جہاد کا نام نے دیا پھر یہ بات بھی مفسدوں کی حرامزدگیوں میں سے ایک عوام زدگی تھی نہ واقع میں جہاد ہے دگی میں جو جہاد کا فتواسے چھپارہ ایک عمدہ دلیل جہاد کی دلی میں جہاد کا سمجھی جاتی ہے مگر میں نے تحقیق کنا ہے۔اور اس کے روکے جو ایران اثبات پر بہت دلیلیں ہیں کہ وہ محض بے میل ہے میں ہے بھوت کا شاہ سنا ہے کہ جب فوج نمک حرام میرٹھ سے دلی میں گئی تو کسی شخص نے جہاد کے باب میں فتواسے چاہا سب نے فتوے دیا کہ جہاد نہیں ہو سکتا اگر چہ اس پہلے فتوے کی میں نے نقل دیکھی ہے مگر جب کہ وہ اصل فتوالے معدوم ہے تو میں اُس نقل کو نہیں کہ سکتا کہ یہاں تک لایق اعتماد کے ہے۔مگر جب بریلی کی فوج دلی میں۔پہنچی اور دوبارہ فتواسے ہوا جو مشہور ہے اور جین میں جہاد کرتا ر واجب لکھا ہے بلاشبہ اصلی نہیں۔چھاپنے والے اُس فتو اسے نے جو ایک مفسد اور نہایت قدیمی بدذات آدمی تھا جاہلوں کے بہکانے اور ورغلانے کو لوگوں کے نام لکھ کر ا در چھاپ کر اُس کو رونق دیا تھا بلکہ ایک آدھ مہرایسے شخص کی تمھاب دی تھی جو قبل غدر مر چکا تھا۔مگر مشہور ہے کہ چند آدمیوں نے فوج باغی بریلی اور اس کے مفسد ہمراہیوں کے جبر اور ظلم سے مد میں بھی کی تھیں + دتی میں ایک بہت بڑا گروہ مولویوں اور اُن کے تابعین کا دلی میں ٹویو کا بڑا ایسا تھا کہ وہ مذہب کی رُو سے معزول بادشاہ دلی کو بہت بُرا کی دو عنوان این کو بیتی سمجھتا تھا او یکی اور بدعتی سمجھتے تھے اُن کا یہ عقیدہ تھا کہ دتی کی جو مسجدوں میں مقبوضہ جاں میں ناز واقع اپنی دیکر استہ ہے۔بت کیا ہائے تو تھے اگیا خوب میے کے لئے ایہ الی ڈپلوس پڑھتے تھے۔