قندیل ہدایت — Page 126
126 of 1460 كشف المحجوب " 416 دیتے ہیں اور انسان کی زندگی بھی ایک صفت ہے اور انسان اس سے زندہ ہے لیکن روح انسان کے جسم میں ایک امانت ہے اور یہ ہو سکتا ہے کہ وہ آدمی سے الگ ہو جائے اور آدمی زندگی کی وجہ سے زندہ رہے جیسا کہ نیند کی حالت میں روح تو چلی جاتی ہے لیکن زندگی باقی رہتی ہے تاہم یہ نہیں ہو سکتا کہ روح کے چلے جانے کے بعد علم اور عقل سلامت رہے اس لئے کہ پیغمبر منانے کا فرمان ہے کہ شہداء کی روحیں ایک جو ہر ہیں جو قائم بذاتہ ہیں اور پیغمبر نے یہ بھی فرمایا ہے کہ الارواح جند مجندة " ( ارواح جمع کئے گئے لشکر ہیں) یہ لا محالہ لشکر تو باقی رہتے ہیں لیکن عرض پر نہ بقا درست ہوتی ہے اور نہ ہی وہ اپنی ذات کے ساتھ قائم ہوتا ہے پس روح اس لطیف جسم کا نام ہوگا جو خدا تعالیٰ کے حکم سے آتا ہے اور اسی صلى الله کے حکم سے جاتا ہے اور پیغمبر ﷺ نے بیان کیا ہے کہ میں نے معراج کی رات حضرت آدم صفی اللہ، یوسف صدیق، موسیٰ کلیم اللہ ، ہارون علیم اللہ عیسی روح اللہ اور ابراہیم خلیل اللہ صلوات اللہ علیہم اجمعین کو آسمانوں میں دیکھا ہے تو لا محالہ وہ ان حضرات کی ارواح ہوں گی اور اگر روح عرض ہوتی تو اپنی ذات کے ساتھ قائم نہ ہوتی تاکہ اس کے وجود کی حالت میں غمبر نے اس کو دیکھ سکتے کیونکہ اگر عرض ہوتی تو اس کے وجود کیلئے ایک محل ہونا چاہئے تھا جس محل کے ساتھ وہ عارض ہوتی اور اس کا محل جو ہر ہوتا کیونکہ جواہر مرکب اور کثیف ہوتے ہیں (حالانکہ پیغمبر ﷺ نے انبیاء کی روحوں کو جسموں کے ہمراہ نہیں دیکھا ) پس معلوم ہو گیا کہ روح ایک لطیف شی ہے اور اس کا جسم بھی ہے جب وہ جسم ہے تو اس کو دیکھنا درست ہوا خواہ یہ دیکھنا دل کی آنکھ کے ساتھ ہی ہو اور یہ بھی درست ہوا کہ وہ پرندوں کے قالب میں ہوں اور یہ بھی درست ہوا کہ وہ ایسا لشکر ہوں جن کا آنا اور جانا ثابت ہو۔جیسا کہ احادیث اس پر ناطق ہیں چنانچہ فرمایا کہ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أمر ربی " کہہ دیجئے کہ روح میرے رب کا کر لی او ایک امر ہے ) گویا اس کا جسم میں آنا اور اس سے انکھ نا سب حق تعالٰی کے حکم سے ہے۔باقی یہاں رہا اختلاف محمدین کا کہ وہ روح کو قدیم کہتے ہیں اس کی پرستش کرتے Presented by www۔ziaraat۔com