قندیل ہدایت — Page 1249
1249 of 1460 دین کے پیچھے دنیا پر لات مارے تھے ابوج کام دین کے پر کرین بھی ہوتا ہے وہ بھی لیا دنیا طلبی ہی کے لئے ہوتا ہے پھر اس جدال و قتال کو کس طرح جہاد دین سمجھا جا غزونی سبیل اللہ شہیر ایا جارے قوام تو جب سے دنیا ہے تب ہی سے کا انعام ہو رہے باین خواص مین چراغ لیکر مشکل ملا کہ اگر ڈھونڈ لگے تو ہزار میں ایک میں بے ریا و سمعہ نہ ملیگا میہ بڑے بڑے فقیہ یہ بڑے بڑے مدرس بہیہ بڑے بڑے درویش جو ڈونگا و بیداری خدا پرستی کا بجارہے ہین رو حق تائید باطل تقلید مذهب تقیید مشرب بین محمد وم عوام کالانعام مبین نتیج یو جیو تو دراصل پین کے بندے نفس کے مرید ابلیس کے شاگرد ہین چندین شکل از بهاسے اکل آنکی دوستی دشمنی انکے باہم کا رتو و کت فقط اسی حسد و کینہ کے لئے ہے نہ خدا کے لئے نہ امام کے لئے نہ رسول کے لئے علم من مبتد مجرد بین لکن حق باطل حلال حرام میں کچھ فرق نہین کرتے عینیت سب و شتم خندیت وز و کذب و نجو را مترا کو گویا صالحات باقیات سمجھکر یا تمدن بذریعه بیان و زبان خلق مین اشاعت فرماتے ہین یہی زبان ذریعہ انکی معاش کا ہے تھوڑا بہت ڈر خدا کا اگر کسیکو ہے تو انہین بچا سے غرباء موحدین متبعین سنت کو ہے جنکو پہنے اپنے خیال خام میں نا کام بہار کہا ہے 2 نہار شما فرقہ رہا د مین کامل کوئی کچھ ہوئے بھی تو یہ زیدان توان خوار ہیں فتنه هر سنت و عذاب وشدت و مکروہ کوفتہ سکتے ہیں جس کام کا انجام طرف سی کردن کے ہو جیسے کفر گناہ نصیحت فجور مصیبت وغیرہ وہ بھی داخل نفقہ ہے فتح کو ندا نے قتل سے زیادہ سخت فرمایا ہی نے پیر کو فتنے سے بنے کا حکم کیا ہے نیب نے اس کو ڈرایا کہ خبردار کسی فتنہ و فساد میں شامل ہونا اپنے لئے یہ دعا کی کہ مجھکو ہے ابتلا سے فتنہ نار نتوں سے تو کوئی زمانہ آدم سے کہ اس مر تک خالی نین رہا فقط اتنی بات ہے کہ وہ فتنے اور طرح پرستے یا بہت کم واقع ہوتے تھے اس زمانہ کے فتنے اور طرح کے میں اب تھا یه را تدان مینہ کیطرح برستے ہیں اسلئے اس زمانے کے فتنے علامت قیامت سمجھے گر بہین من القتل