قندیل ہدایت — Page 1247
جاويد نامه 1247 of 1460 ۹۰۴ بارھواں بند در مسلماناں مجو آں ذوق و شوق اں یقیں ، آن رنگ و بو ، آں ذوق و شوق ! عالماں از علم قرآن بے نیاز صوفیاں درنده گرگ و مود راز ! اندر خانقاہاں ہاے و هوست کو جو انمردے کہ صہبا در کدوست ! مسلمانان افرنگی افرنگی تاب چشمه کوثر بجویند از سراب ! بے خبر از سر دین انداین همه اہل کین اند اہل کین اند ایں ہمہ ! دیده ام صدق و صفا را در عوام ! ہم و خوبی بر خواص آمد حرام اہل دین را بازدان از اہل کیں ہم نشین حق بجو با اونشین کر گساں را رسم و آئیں دیگر است سطیت پرواز شاہیں دیگر است ترجمه و تشريح۔۔۔تو ( آج کے مسلمانوں میں وہ پہلا سا ذوق و شوق مت تلاش کر۔وہ یقین، وہ رنگ و بو اور وہ ذوق و شوق نہ تلاش کر۔آج کے علماء قرآن کے علم سے بے نیاز ( لا پرواہ) ہیں، جب کہ صوفی گویا پھاڑ کھانے والا بھیٹر یا بنے ہوئے ہیں اور دراز زلفوں (لمبے بالوں ) والے ہیں۔اگر چہ ان کی خانقاہوں میں ہائے و ہو کا شور ہے مگر ان میں کوئی ایسا جوان مرد نہیں ( کہاں ہے ) جس کے مکے میں شراب (حدت) ہے۔یعنی کوئی بھی تصوف کی شراب ( حقیقی تصوف) سے سرمست نہیں ہے۔افرنگی تہذیب وثقافت سے متاثر مسلمان بھی سراب میں سے حوض کوثر تلاش کر رہے ہیں۔(وہ غیر مسلموں کی پیروی کر رہے ہیں)۔یہ سب دین کے بھید راز سے بے خبر ہیں اور یہ سب اہل کیں (باہمی عداوت رکھنے والے) ہیں، اہل کیں (اہل کینہ ) ہیں۔ہے مسلمانوں کے خواص پر نیکی حرام ہو گئی ان میں سے کسی میں بھی خیر و خوبی نظر نہیں آتی ، مگر ان کے عوام میں میں نے صدق وصفا دیکھا ہے۔اہل دیں کو اہل میں سے الگ سمجھ تو کسی ہم نشین حق ( خدا کے ساتھ بیٹھنے والا ) کو تلاش کر اور اس کی صحبت اختیار کر۔گدھوں کا رسم و دستور ( طور طریقہ ) اور ہے جب کہ شاہیں کی پرواز کی شان و شوکت کچھ اور ہے۔اردو میں علامہ فرماتے ہیں۔پرواز ہے دونوں کی اس ایک فضا میں کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور تیرھواں بند مرد حق از آسمان افتد چوبرق هیزم او شهر و دشت غرب و شرق ما هنوز اندر ظلام کائنات او کلیم او مسیح " و او خلیل۔شریک اہتمام کائنات او محمد او کتاب او جبرئیل !