قندیل ہدایت — Page 1245
1245 of 1460 جا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا ، تو غریب زحمت روزه جو کرتے ہیں گوارا، تو غریب نام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا، تو غریب پردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمھارا، تو غریب أمرا نفحه دولت میں ہیں غافل ہم سے زندہ ہے ملت بیضا نکربا کے دم سے واعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی برق طبعی نہ رہی، شعلہ مقالی نہ رہی رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی فلسفه ره گیا، تلقین غزالی نہ رہی مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے یعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہے شور ہے، ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود! وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود یہ مسلماں ہیں! جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو تم کبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو! www۔pdfbooksfree۔pk