قندیل ہدایت — Page 1228
1228 of 1460 مکتوبات امام ربانی حصه هفتم دفتر دوم اور حضرت عیسی علی نبیاء علیہ الصلوۃ والسلام جو کہ بعد نزول اس شریعت کی اتباع کریں گے۔اس سرور علیہ و ل له الصفوا ان اسلام کی سنت کی اتباع ہی کریں گے کہ اس شریعیت کا نسخ جائز نہیں ہے۔ہو سکتا ہے کہ علماء ظلوا ہر حضرت عیسی علی نبینا عليها الصلوۃ والسلام کے اجتہادات کی اپنے ماخذ کے کمال اور دقیق ہونے کی وجہ سے مخالفت کریں اور ان کو کتاب و سنت کے مخالف تھیں۔حضرت عیسی علیہ السلام کا حال امام اعظم ابو حنیفہ کوفی رحمہ اللہ علیہ کی طرح ہے۔کہ پرہیزگاری اور تقویٰ کی برکت اور سنت کی متابعت کی دولت سے اجتہاد اور استنباط کے نہایت بلند درجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ دوسرے لوگ اس کے سمجھنے سے بھی قاصر ہیں۔اور وقت معافی کی وجہ سے ان کے اجتہادات کو سریع وسنت کے مخالف سمجھتے ہیں۔اور ان کو اور ان کے اصحاب کو اصحاب الرائن کہتے ہیں۔اور یہ سب کچھ ان کے علم اور درایت کی حقیقت اور ان کے فہم پر مطلع نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔اور امام شافعی رحمہ اللہ علیہ نے اشاروں سے ان کی فقاہت کی وقت کو معلوم کیا۔اور کہا شام فقہاء او حنیفہ کے خیال ہیں۔افسوس ان قاصر نظروں کی جماعت پر کہ اپنے قصور کو دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ہ ن قاصر گرکند این قافله را طعن قصور حاشش انشا که به آرم باز این این گله را کہ ہم شہریان جہاں بستر این سلسله انه رویه از جمله ساسی بگسلد این سده یر مقلد حرات کم ہی کی بنا پر سے دن کسی نہ کسی اندر میں ملک حنفی پر اعتراض تنقید کرتے رہتے ہیں اور اسی گروہ کے نشاند ہیے درانی کے ساتھ تقلید کہ اریہ اور اجتہادی مسائل کو بدعت سینہ اور بدعت ضلات قرار دیتے ہیں حضرت امام ربانی محمدان علیہ نے اس مکتوب میں نہایت جامع انداز میں مسلک حنفی کی تصویب و تائید کی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس مکتوب میں آپ نے اپنے حنفی اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ للہ علیہ کا مقلد ہونے کا حق ادا کردیا ہے۔او یا ہے۔اور ناقدین و معترضین کی پوری ایسی خبر کی ہے۔حضرت شیخ محمد رضی اللہ عنہ ی تحقیق کا خلاصہ درج ذیل ہے۔حضرت امام اعظم ابو مینہ دولتالہ علیہ پرہیز گاری تقوی اور مشامت سنت کی برکت سے اعتماد و استنباط کے نہایت درجہ پر فائز ہیں۔لوگ آپ کی بلندی شان سمجھنے سے قاصر ہیں۔ناقدین و معترضین امام ابوحنیفہ رحمہ اله علی پر اور آپ کی استادی اور اہنی کاوشوں پر اس وجہ سے اعتراض کرتے ہیں کہ یہ تولہ اپنی کم علمی کے باعث آپ کے دقیق اصول اجتہاد اور استنباط کو نہ سمجھ سکے۔اسی کوتاہی کے باعث آپ کے اجتہادات کو کتاب و سنت کے خلاف اور آپ اور آپ کے تلا ہندو اور ساتھیوں کو اپنی رائے کی پیروی کرنے والے قرار دیتے ہیں۔سو امام امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ اسم اعظم رحمتہالہ علیہ کی ہدایت شان کے اس قدر معترف ہیں کہ تمام فقہاء کو آپ کا خیال کہتے ہیں کوتاہ نظر سرزمین پر افسوس کہ انہیں اپنا قصور نظر نہیں آتا۔بل سوچے لکھا اعتراض کرتے ہیں۔(حاشی بر مسنو سند )