قندیل ہدایت — Page 1111
مشکوۃ شریف مترجم جلد سوم 1111 of 1460 ۳۶ دجال کا حال أنذِرُكُم كما أنذری نوم قومه متفق علیہ ہوں، جس طرح نوح نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا بخاری ومسلم) در حال جس شخص کو مصیبت میں ڈالے گا وہ در حقیقت راحت میں ہوگا بهر و عن حذيفة عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت حذیفہ نےکہتے ہیں بی صلی الہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے دجال اپنے وسلم قَالَ إِنَّ اللجَالَ يَوَان مَعَهُ مَاءً ساتھ پانی آگ لیکر نکلے گا وہ چیز جس کو لوگ پانی سمجھیں گے حقیقت ونا را فَأَمَّا الَّذِي يَرَاهُ النَّاسُ مَاءً فَنَار تحرق میں آگ ہوگی جھلسا دینے والی۔اور میں کو آپ خیال کرینگے وہ حقیقت واما الذى يراه النَّاسُ نَارًا بار بار ڈ میں پانی ہو گا ٹھنڈا اور شیریں میں تم میں سے جو شخص مجال کو پائے گا تو وہ عذاب بن أدركَ ذلِكَ مِنكُم فيقع في الذى اس چیز یں اپنا پڑتا یا واں جانا پسند کرے گا جس کو وہ اپنی آنکھوں آاگ يرَاكُ نَارًا فَإِنَّكَ مَاء عَذَابٌ طَيِّب متفق علیه دیکھتا ہے۔اسلئے کہ وہ آگ حقیقت میں بیٹھا اور ٹھنڈا پانی ہے دنجاری ANGELONGANANALOGENELEGAN الدَّجَّالَ مَسسُومُ العَيْنِ مسلم اور کم نے اس وایت میں یہ الفاظ زیادہ لکھے ہیں کہ جال کی آنکھ عليهما خُفَرَةٌ غَلِيظَةُ مكتوب بین بیٹھی ہوئی ہوگی اور دوسری آنکھ پر موٹا نا خونہ ہوگا۔اس کی آنکھوں عَيْنَيْهِ كَافِرُ يَفْرُ كُل مومن کے درمیان کا فرلکھا ہوگا میں کو ہر مومن خواہ وہ لکھا پڑھا ہویانہ ہو بڑھ كاتب وغير كاتب۔لے گا۔دحال کی پہچان ود ۲۳۸ وَعَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صلے اللہ حضرت حذیفہ یہ کہتے ہیں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے صلی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللجَالُ أَعُورُ العين اليسرى وجال کی بائیں آنکھ کائی ہوگی۔بہت کثرت سے بال ہونگے اسکے جفَالُ الشَّعر معه جنته ونارة فناسی ساتھ جنت اور دوزخ ہو گی۔اس کی آگ حقیقت میں جنت ہو جَنَّتُهُ وَجَلْتَهُ نَارُ رَوَاهُ مُدام گی اور جنت حقیقت میں آگ۔(مسلم) دجال کے طلسماتی کارناموں اور یا جوج و ماجوج کا ذکر وسسه وَعَنِ النَّواسِ بنِ سِمعَانَ قَالَ ذَكَرَ حضرت نواس بن سمعان کہتے ہیں رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم نے رَسُولُ الله صَلَ الله عَلَيْهِ وَسَلَّم وجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا اگر مجال ترویج کہتے ہو میں تمہارے درمیان اللجالَ فَقَالَ إن حد و انا فيكم فانا موجود ہوں تومیں اس سے تمہارے سامنے بحث و گفتگو کرونگا اور اس پر مجيجة دونكم وان بجرح وست فیلم نامر غالب آؤنگا، اور اگر وہ اس وقت نکلے جبکہ میں تم میں موجود نہ ہوں تحمُ نَفْسِهِ وَالله خَلِيفَى عَلَى كُل مُسلِم تو تم میں سے ہرشخص اپنی طرف سے اس سے بحث و گفتگو کرنیوالا ہو گا۔إنَّه شَابٌ قَطَطٌ عَيْنَهُ طَافی گائی یعنی اس کی برائیوں کو رفع کرنیوالا اور اپنے آپ کو اس سے بچا نیوالا ہے اوراپنے نیوال؟ أَشَبهُهُ بِعَبْدِ الْعُزْى اسبهه TNNTUNGENDANT بن قطن فمن أدرك اور برا وکیل خلف بر مسلمان پر خدا ہے۔یعنی خدا تعالے پر سلمان کا محافظ میرا منكم فليقرأ عليه فواتح سوري مددگار ہے، وقبال جوان ہو گا۔گھونگریالے بال ہو نگے اور اس کی آنکھ فَلَبَقَ أَعَلَيْهِ الكَهْفِ وَفِي رِوَايَةٍ فَلْیق اعلی پھوٹی ہوئی ہوگی۔گویا ہیں اس کو قطن کے بیٹے عبد العزبی سے تشبیہ بِفَواتِ سُورَة الكَهْفِ فَانها جواس کو دے سکتا ہوں تم میں سے جو شخص اسکو پائے وہ اسکے سامنے سورہ کہف مِنْ فِتْنَتِهِ إِنَّهُ خَارِج خَلَةَ بَيْنَ الشَّامِ کی ابتدائی آتیں پڑھے اسلئے کہ یہ آیتیں تم کو دجال کے فتنہ سے بچائیں وَالْعَرَاقِ فَعَاتِ يَمِينًا وَعَاتِ شِمَالاً گی۔وقال اس راہ سے خروج کریگا جو شام اور عراق کے درمیان واقع يَا عِبَادَ اللهِ فَا ثبتوا قلنا یار سول اللہ ہے اور دوائیں باتیں فساد پھیلائے گا۔اسے اللہ کے بندو! د اپنے دین