قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 1045 of 1460

قندیل ہدایت — Page 1045

1045 of 1460 ۱۴۲ کنز العمال۔۔۔حصہ باز و هم سعید بن مسیب سے انہوں نے ابی بن کعب سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ دین دنیا پر غالب رہے گا یہاں تک کہ دنیا کی زیب وزینت ظاہر ہو جائے جب دنیا کی زیب وزینت ظاہر ہوگی تو دنیا دین پر غالب آ جائے گی جیسے آزاد کردہ باندی نکاح کا پیغام دے اپنے آقا کو تم میں بہتر وہ وہی ہے جو دین کے غلبہ کی حالت میں وفات پا جائے باقی رہنے والے تلوار کی دھار پر زندہ رہنے والوں کی طرح میں مضبوطی سے تھامے رہو مضبوطی سے تھامے رہو۔ابی نے بتایا میں نے کہا یا رسول اللہ کیا ان پر کوئی خلیفہ مقرر نہیں فرماتے کہ اس کو ان کی ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت فرمائے اور ان کو اس کے بھلائی کی ؟ فرمایا معاملہ میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے اللہ کا فیصلہ غالب رہے گا خاموشی اختیار کرو۔(ابو اشیخ نے فتن میں روایت کی مغنی نے کہا اس کی سند میں عروہ بن عبداللہ بن زبیرابی الزناد سے روایت کرنے میں غیر معروف ہے ) ۳۱۵۱۹ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے علی: اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب لوگ آخرت سے اور دنیا کی طرف راغب ہوں گے اور میزات کی مال کو سمیٹ کر کھا جائیں گے اور مال سے بہت زیادہ محبت کریں گے اور اللہ کے دین کو فساد کا ذ ریعہ بنا لیں گے اور بیت المال کو شخصی دولت کے طور پر استعمال کریں گے؟ میں نے عرض کیا میں ان لوگوں کو اور ان کے اعمال کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ کو اور دار آخرت کو اختیار کروں گا اور دنیا کے مصائب پر صبر کروں گا حتی کہ آپ کے ساتھ ملاقات کروں گا انشاء اللہ آپ بچے نے ارشاد فرمایا کہ تم نے سچ کہا اے اللہ ان کے ساتھ یہی معاملہ فرما۔( ثقفی نے اربعین میں روایت کی ہے اس کی سند میں صالح بن ابی الاسود ضعیف ہے) ۳۱۵۲۰ حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایسے فتنے ظاہر ہوں گے کہ آدمی اس میں منکرات کو اپنے ہاتھ یا زبان سے روکنے پر قادر نہ ہوگا حضرت رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ اس وقت ان لوگوں میں کوئی مؤمن بھی ہوگا ؟ ارشاد فرمایا ہاں کیا منکرات پر رد نہ کرنا ان کے ایمان میں کوئی نقص پیدا کرے گا ارشاد فر مایا کہ نہیں مگر اتنا جتنا کہ بارش چکنے پتھر پر۔رسته في الايمان وليس من بنظر في حاله الالتهم ۳۱۵۲۱ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ رسول اللہ ﷺ کے گھروں کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور ارشاد فر مایا کہ کیا تم وہ باتیں دیکھتے ہو جن کو میں دیکھ رہا ہوں؟ میں دیکھ رہا ہوں فتنے تمہاری گھروں میں اس طرح داخل ہوں گے جس طرح بارش کا پانی داخل ہوتا ہے۔معراج حمدی بخاری مسلم والعدني ونعيم بن حما دفى الفتن وابو عوانه مستدرک ۳۱۵۲۲ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ اسلام کا صرف نام ہی باقی رہ جائے گا قرآن کے صرف نقوش رہ جائیں گے مساجد کی تعمیر اچھی ہوگی لیکن صدایت کے لحاظ سے خراب ہوگی اس زمانہ کے علماء زیر آسمان بدترین لوگ ہوں گے انہی سے فتنوں کے ستارے ظاہر ہوں گے اور انہی کی طرف لوٹیں گے۔العسکری فی المواعظ ۱۵۲۳۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ انصار کو بلا یا تا کہ بحرین میں ان کے لئے جاگیریں لکھ دیں تو انصار نے کہا پہلے ہماری طرح ہمارے مہاجر بھائیوں کے لئے بھی لکھ دیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میرے بعد دیکھو گے کہ تم پر اوروں کو ترجیح دی جارہی ہوگی اس وقت صبر سے کام لو یہاں تک مجھ سے ملاقات کرو۔اخصرا في المتفق ۳۱۵۲۴۔۔۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تم جلد باز فواحشات پھیلانے والے لوگوں میں فتنہ کے بیج بونے والے نہ بنو کیونکہ تمہیں بعد میں ایسی بلاء کا سامنا کرنا جو عیب دار بنادے گا شدت تکلیف کی وجہ سے لوگوں کا چہرہ متغیر کرے گا اور امور ظاہر ہوں گے ان میں سے طویل اور شدید فتنے بھی ہیں۔بخاری فی الادب امر بالمعروف نہی عن المنکر کی حد ۳۱۵۲۵۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرض کیا گیا یا رسول اللہ ہم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو کب چھوڑ دیں؟ فرمایا جب تم میں