قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 61
قبر ہے۔جن کی وفات 1868ء میں ہوئی تھی۔جب کبھی حضور علیہ السلام ان کا ذکر فرماتے آنکھوں سے آنسوں رواں ہو جاتے تھے۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کا چشم دید بیان ہے کہ حضور علیہ السلام ایک مرتبہ سیر کی غرض سے اپنے پرانے خاندانی قبرستان کی طرف نکل گئے۔راستہ سے ہٹ کر آپ ایک جوش کے ساتھ اپنی والدہ صاحبہ کے مزار پر آئے اور اپنے خدام سمیت لیبی دعافرمائی اور چشم پر آب ہو گئے۔( بحوالہ حیات احمد جلد اول حصہ دوم صفحہ 221 مطبوعہ ربوہ سن 2013ء) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے والد صاحب اور دادا صاحب کے نزدیک اس قبرستان کی اتنی اہمیت تھی کہ جب حضور علیہ السلام کے دادا مرزا عطا محمد صاحب بیگووال ریاست کپورتھلہ میں پناہ گزین تھے اور وہاں 1814ء میں ان کی وفات ہو گئی تو حضور علیہ السلام کے والد حضرت مرز الظلام مرتضیٰ صاحب آپ کا جناز و اپنے آبائی قبرستان میں دفن کرنے کے لئے راتوں رات قادیان میں لے آئے اور سکھوں کی مزاحمت کے باوجود انہیں بڑی دلیری سے اپنے خاندانی قبرستان میں دفن کیا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں: (بحوالہ حیات طیبہ صفحہ 7) ”قادیان کے جس قبرستان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے افراد دفن ہوتے رہے ہیں وہ مقامی عید گاہ کے پاس ہے۔یہ ایک وسیع قبرستان ہے جو 61