آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 70
بتائے گی اور یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اس کی الہامی کتاب میں کوئی انسانی کلام نہیں ہوگا۔بلکہ شروع سے لے کر آخر تک خدائی کلام ہی اس میں ہوگا۔پھر یہ بھی بتایا گیا تھا کہ وہ آئندہ کی خبریں دے گا اور یہ بھی کہ وہ مسیح کی بزرگی بیان کرے گا۔اور جو اس پر عیب لگائے گئے ہیں ان کو دور کرے گا۔یہ پیشگوئی واضح طور پر محمد رسول اللہ صلی شیا کی تم پر صادق آتی ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ جب تک مسیح آسمان پر نہ جائے ، وہ تسلی دلانے والا نہیں آسکتا۔اعمال باب ۳ آیت ۲۱-۲۲ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کے آسمان پر جانے اور اس کے دوبارہ نازل ہونے کے درمیان استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ کے موعود نے پیدا ہونا ہے پس تسلی دلانے والے سے مراد استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ والا موعود ہی ہے۔پھر لکھا ہے کہ وہ موعود مسیح کے منکروں کو ملامت کرے گا۔اس سے مراد عیسائی تو ہو نہیں سکتے۔کسی شخص کے متبع تو اس کے دشمنوں کو ملامت کیا ہی کرتے ہیں۔یہ علامت بتا رہی ہے کہ وہ موعود کسی غیر قوم کا ہوگا اور بظاہر اس کو مسیح کے ساتھ کوئی نسلی یا ملی تعلق نہیں ہوگا مگر بوجہ اس کے کہ وہ راستباز ہو گا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگا غیر قوم میں سے ہوتے ہوئے بھی وہ اپنے آپ کو راستبازوں کی عزت کا نگران سمجھے گا اور ان کی عزت کی حفاظت کرے گا۔محمد رسول اللہ صلی سیستم اسماعیلی نبی تھے۔عیسائی یا یہودی نہیں تھے۔مگر باوجود اس کے دیکھو کس طرح انہوں نے مسیح کی عزت کی حفاظت کی۔اللہ تعالی قرآن کریم میں یہود کی نسبت فرماتا ہے۔وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ج ط وَإِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتَّبَاعَ 70