آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 61
ایک لشکر تیار کر کے اس طرف بھجوایا اور آخر حضرت ابوبکر کے زمانے میں رومیوں اور مسلمانوں میں باقاعدہ لڑائی چھڑ گئی اور حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایران اس لڑائی میں شامل ہو گیا اور آپ کی زندگی میں ہی دونوں حکومتیں تباہ اور برباد ہوگئیں اور دور سر حدوں پر چھوٹی چھوٹی ریاستیں بن کر رہ گئیں۔اس پتھر کے متعلق یسعیاہ اور متی میں بھی خبریں دی گئی ہیں۔چنانچہ یسعیاہ باب ۸ آیت ۱۴ میں ایک آنے والے موعود کے متعلق لکھا ہے:۔وہ تمہارے لئے ایک مقدس ہوگا پر اسرائیل کے دونوں گھرانوں کے لئے ٹکر کا پتھر اور ٹھوکر کھانے کی چٹان پھر آیت ۱۵ میں لکھا ہے ”بہت لوگ ان سے ٹھوکر کھائیں گے اور گریں گے اور ٹوٹ جائیں گے۔اور متی باب ۲۱ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ موعود جسے پتھر کہا گیا ہے۔میسج نہیں۔بلکہ مسیح کے بعد آنے والا دوسرا شخص ہے۔اور آیت ۴۴ میں اس کی یہ شان بیان کی گئی ہے کہ ”جو اس پتھر پر گرے گا چور ہو جائے گا پر جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا۔“ اسی طرح زبور باب ۱۱۸ آیت ۴۲ میں لکھا ہے۔” وہ پتھر جسے معماروں نے رد کیا کونے کا سرا ہو گیا۔متی باب ۲۱ میں بھی اس پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا گیا۔اور لکھا ہے یسوع نے انہیں کہا کیا تم نے نوشتوں میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو راج گیروں نے ناپسند کیا وہی کونے کا سرا ہوا۔( آیت (۴۲) جیسا کہ بتایا جا چکا ہے۔اس پیشگوئی کے متعلق خود حضرت مسیح کا فیصلہ ہے کہ یہ پیشگوئی ان پر صادق نہیں آتی بلکہ اس وجود پر صادق آتی ہے جو بیٹے کے صلیب پر لٹکا دینے کے بعد ظاہر ہوگا۔عیسائی لوگ اپنی خوش فہمی سے اس سے مراد کلیسیا لیتے ہیں حالانکہ کلیسیا اس پیشگوئی سے مراد ہو ہی نہیں 61